خطبات محمود (جلد 16) — Page 502
خطبات محمود ۵۰۲ سال ۱۹۳۵ء بھی ان میں ہوتی ہیں پس اگر عمدگی سے نیشنل لیگ کوشش کرے تو قادیان اور اردگرد کے مواضعات کو ملا کر ۱۵۰۰ کے قریب نیشنل لیگ کے ممبر ہو سکتے اور سارے ضلع سے تین ہزار کے قریب ممبر حاصل ہو سکتے ہیں لیکن بہر حال اگر دو یا تین ہزار کے درمیان کوئی تعداد بھی ممبروں کی ہو تو میں سمجھوں گا کہ نیشنل لیگ نے کامیاب کوشش کی اور اس کے معنی یہ ہونگے کہ باقی ضلعوں سے ہمیں نصف کے قریب اور ممبر درکار ہوں گے۔جب یہ تعداد پوری ہو جائے گی تو اس کے بعد نیشنل لیگ کو وسیع اختیارات دیئے جائیں گے اور زیادہ ذمہ واری کے کام اس کے سپرد کئے جائیں گے۔میں سمجھتا ہوں صرف ہوشیار پور، سیالکوٹ اور گورداسپور تینوں ضلع ملکر پانچ ہزار ممبر نیشنل لیگ کو دے سکتے ہیں۔یہ دو نصیحتیں ہیں جو اس وقت میں نیشنل لیگ کے کارکنان کو کرنی چاہتا ہوں۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ نیشنل لیگ کو جب اختیارات دیئے جائیں تو پہلی چیزیں جو اس کے پروگرام میں شامل ہونی چاہئیں وہ تین کام ہیں جو آگے چل کر بتاؤں گا۔اس کے علاوہ بھی اگر کوئی کام نظر آئے تو وہ کرے لیکن ہمیشہ اس اصل کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ زیادہ کاموں پر ہاتھ ڈالنا کام کو خراب کر دیا کرتا ہے۔انسان کو چاہئے کہ وہی کام لے جو آسانی سے کر سکے ہاں جب وہ کام ختم ہو جائے تو اور کام شروع کرے۔پھر نیشنل لیگ والے سیاسی طور پر جب دوسری جماعتوں سے تعلق پیدا کریں گے تو انہیں کئی پروگرام دوسری جماعتوں کے بھی مد نظر رکھنے پڑیں گے۔مثلاً فرض کر و کانگرس کا نیشنل لیگ سے اتحاد ہو جاتا ہے نیشنل لیگ قانون شکنی سے انکار کر سکتی ہے مگر کانگرس اس سے یہ تقاضا کر سکتی ہے کہ دیہات سدھار کے کام میں اس کے ساتھ تعاون کیا جائے تو پھر اس کام کو بھی اپنے پروگرام میں اسے شامل کرنا پڑے گا یا اور کسی قوم کے ساتھ نیشنل لیگ کا اتحاد ہو جاتا ہے اور وہ کوئی اور پروگرام اس کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس پروگرام کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔غرض چونکہ نیشنل لیگ کو دوسری انجمنوں کے کئی پروگرام بھی اپنے پروگرام میں شامل کرنے پڑیں گے اس لئے اور بھی زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ نیشنل لیگ کا موجودہ پروگرام نہایت مختصر ہو۔مجھے ایک صوبہ کی طرف سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ نیشنل لیگ اگر وہاں کام کرے تو بہت بڑی طاقت بن سکتی ہے کیونکہ وہاں کی موجودہ پارٹیاں انتہاء پسند ہیں اور مختلف پارٹیاں اپنے درمیان وسیع خلیج رکھتی ہیں۔یعنی یا تو لوگ گورنمنٹ کے خلاف ہیں اور اتنے انتہاء پسند ہیں کہ قتل وغارت کے سوا انہیں کچھ نظر ہی