خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 468

خطبات محمود ۴۶۸ سال ۱۹۳۵ء گورنمنٹ ان کی طرفدار ہے۔آج خدا تعالیٰ نے وہ کھونٹا بھی توڑ دیا ہے تا کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ احمدی حکومت کے کھونٹے پر ناچ رہے تھے۔اب جو ہم اخلاق دکھاتے ہیں وہ اسی قوت کے ماتحت دکھلاتے ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر پیدا کی ہے ، کسی حکومت کے بل بوتے پر نہیں دکھاتے۔اس سے پہلے اس قسم کے اخلاق دکھانے کے مواقع ہمیں کہاں حاصل تھے۔پھر پہلے ہماری جماعت پر انفرادی طور پر ظلم ہوتے تھے مگر اب صحیح یا غلط طور پر ایک قوم جو قانون شکنی کی عادی ہے اس کا خیال ہے کہ حکومت کے بعض افسر بھی اس کے ساتھ ہیں اور وہ جو بھی ظلم کرے کر سکتی ہے اور پکڑی نہیں جا سکتی۔میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اس قوم کا یہ خیال درست ہے یا غلط۔چاہے یہ درست ہو چاہے غلط یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسی ذہنیت کے ماتحت وہ قوم جو ظلم بھی کرے گی وہ انتہاء درجہ کا ہو گا۔پہلے لوگ یہ سمجھتے تھے کہ گورنمنٹ احمدیوں کے ساتھ ہے اس خیال کی وجہ سے کئی لوگ ہم پر ظلم کرنے سے ڑکے ہوئے تھے اور یہ صورت حالات اتنی واضح تھی کہ حکومت پنجاب کے ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے افسر نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جب کہ وہ ابھی حکومت ہند میں نہیں گئے تھے کہا کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو کہ حکومت آپ کی حمایت یا کسی قسم کی رعایت کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ کو اس سے کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے۔گویا یہ ایک تسلیم شدہ بات تھی کہ کئی مظالم اس لئے جماعت احمدیہ پرڑ کے ہوئے تھے کہ لوگوں کو یہ وہم تھا کہ گورنمنٹ احمدیوں کے ساتھ ہے مگر اب چونکہ ان کا یہ وہم بھی جاتا رہا ہے اس لئے وہ ظلم ہم پر کئے جانے لگے ہیں جو پہلے ہم پر نہیں کئے جاتے تھے مگر اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر بھی وہ صبر اور برداشت کا مادہ پیدا کر دیا ہے کہ ہم بخوشی ان مظالم کو سہنے لگ گئے ہیں۔اگر یہ مظالم ہماری جماعت پر نہ ہوتے تو لوگ کہتے اگر احمدیوں پر زیادہ ظلم ہوتا تو شاید اسے برداشت نہ کر سکتے مگر اب جس طرح اندھا دھند احرار ہم پر حملے کر رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ ہمارا صبر کمزور سا صبر ہے۔واقعات سے صاف ثابت ہے کہ ایک قوم حکومت سے نڈر ہو کر ہم پرحملہ کرتی ہے مگر ہم اس کے مظالم برداشت کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔تیسرا فائدہ ان حادثات سے ہمیں یہ پہنچا ہے کہ ہمیں اپنی جماعت کی نئی تربیت کا موقع ملا ہے پہلے چونکہ ہماری جماعت پر اس رنگ میں مظالم نہیں ہوتے تھے اس لئے ہماری قربانیاں بھی محدود اثر رکھتی تھیں۔کسی نے کسی احمدی کو ایک جگہ مارا پیٹا کسی دوسرے نے کسی احمدی پر مقدمہ کر دیا، یہ