خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 469

خطبات محمود ۴۶۹ سال ۱۹۳۵ء انفرادی حملے تھے جو جماعت کے افراد پر کئے جاتے تھے مگر آج کا حملہ قومی حملہ ہے اور قوم کو بچانے کے لئے چونکہ نئی نئی تدابیر اور نئے نئے وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں وہ نئی نئی سکیمیں اور جماعت کی ترقی کے لئے نئی سے نئی تدبیریں بتائیں جو پہلے ہمیں معلوم نہیں تھیں یا معلوم تو تھیں مگر جماعت کی حالت ان کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔پھر ان مظالم کے نتیجہ میں آپ ہی آپ لوگوں کی تربیت ہوتی جا رہی ہے۔اب ہر شخص خود بخود یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ قومی حملہ کے مقابلہ میں قومی دفاع کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔اس قسم کے قومی حملوں کے دفاع میں کانگرس ہم سے زیادہ واقف تھی مگر اب ہماری جماعت بھی اس طریق کار سے واقف ہوتی جاتی ہے اور اپنی ذمہ داری کا زبردست احساس پیدا ہوتا جا رہا ہے۔یہاں دفعہ ۱۴۴ نافذ کی گئی اور ہم چونکہ قانون کی باریکیوں سے واقف نہیں اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہو سکتا کہ حکام بعض دفعہ زبردستی بھی ایک دفعہ کا نفاذ کر دیا کرتے ہیں اس لئے جب انہوں نے دفعہ ۱۴۴ لگائی تو ہم نے دل میں کہا گورنمنٹ نے جو کچھ کیا ہو گا اپنے حالات کے ماتحت درست کیا ہو گا مگر ان فتن کی وجہ سے ہماری جماعت میں جو قومی روح پیدا ہو چکی تھی اس کے ماتحت لاہور میں بیٹھے اور قانون کی کتابوں کی ورق گردانی کرتے ہوئے ہمارے عزیز شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کو ایک بات سُوجھی اور انہوں نے سمجھا کہ گورنمنٹ نے بے جا طور پر اس دفعہ کا ہم پر اطلاق کیا ہے۔چنانچہ وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اس دفعہ کو تڑوا سکتے ہیں۔میرے ذہن میں فلاں بات آئی ہے۔میں نے کہا کہ ہمیں تو اس کا علم نہیں تھا۔آپ کوشش کریں چنانچہ انہوں نے کوشش کی اور وہ دفعہ اڑ گئی۔گو مدت کے گزرجانے کی وجہ سے قانونی طور پر اُڑی مگر بہر حال اُڑی۔اسی طرح ہزاروں احمدیوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ سلسلہ کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔غرض یہ تربیت اور تنظیم جو اب ہماری جماعت کی ہو رہی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی۔چوتھی بات جو میرے لئے نہایت ہی اہم ہے اور جسے ہم کسی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے یہ ہے کہ ایشیا کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہے جس میں آزادی کی روح پیدا ہو چکی ہے اور جو اپنی آزادی کے راستہ میں سب سے زیادہ مُسجل انگریزوں کو سمجھتا ہے تم مت خیال کرو کہ اخبارات میں یہ نکلتا رہتا ہے کہ ترکی کی حکومت انگریزوں کی خیر خواہ ہے یا افغانی حکومت کے انگریزوں سے دوستانہ