خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 467 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 467

خطبات محمود ۴۶۷ سال ۱۹۳۵ء ہوئی ؟ دشمن نے زور لگایا اور انتہاء درجہ کا لگایا، دانستہ یا نادانستہ طور پر بعض حکام بھی ان کے ساتھ مل گئے مگر اس کا کیا نتیجہ نکلا ؟ اسلام تو ایسے محفوظ اصول پر قائم ہے کہ جو شخص اس کی تعلیموں پر عمل کرے اسے نقصان پہنچ ہی نہیں سکتا۔مذہبی اور روحانی لحاظ سے نقصان کو الگ رکھو جسمانی اور مادی نقطہ ء نگاہ سے بھی اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے محفوظ ہو جاتے ہیں۔جب مؤمن کا اصول یہ ہے کہ بلا وجہ اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچا نا تو کوئی دوسرا کس حد تک اسے نقصان پہنچا سکتا ہے۔مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی زبان کو ایسے طور پر بند رکھے کہ ناجائز طور پر اسے کھلنے نہ دے مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو ایسے طور پر بند رکھے کہ ناجائز طور پر انہیں کام نہ کرنے دے، مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پاؤں کو ایسے طور پر بند رکھے کہ ناجائز طور پر انہیں چلنے نہ دے، مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں کو ایسے طور پر بند رکھے کہ ناجائز طور پر انہیں دیکھنے نہ دے ، مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے کانوں کو ایسے طور پر بند رکھے کہ انہیں ناجائز طور پر سننے نہ دے، اسی طرح مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ملمس کو ایسے طور پر بند رکھے کہ نا جائز طور پر اسے چھونے نہ دے اور مؤمن کا فرض مقرر کیا گیا ہے دوسرے رنگ میں زبان کے متعلق کہ ناجائز طور پر اسے چکھنے نہ دے۔پس جب ایک مؤمن خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے اپنی تمام طاقتوں کو لوگوں کو نقصان پہنچانے سے بچاتا ہے تو ایسے شخص کوکوئی کہاں تک نقصان پہنچا سکتا ہے۔دنیا ظلم کرنے بھی لگے تو ایک قدم چلے گی ، دو قدم چلے گی ، تین قدم چلے گی ، چار قدم چلے گی، آخر شریف النفس لوگ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکیں گے اور کہیں گے کہ کیوں ایک طرف سے ظلم پر ظلم ہو رہا ہے اور دوسری طرف سے خاموشی پر خاموشی ہے۔پس پہلا فائدہ ان فتن سے یہ پہنچا ہے کہ ہر احمدی حسب مراتب اپنی ذات میں نئی ہمت اور نئی اُمنگ پاتا ہے اور دین کی خدمت کے لئے وہ پہلے سے بہت زیادہ جوش اور بہت زیادہ تڑپ اپنے اندر رکھتا ہے۔دوسرا فائدہ ان حادثات کا میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے اخلاق کے دکھانے کے ایسے مواقع میسر آئے ہیں جو پہلے میسر نہیں تھے۔لوگ ہمارے متعلق یہ کہا کرتے تھے کہ یہ گورنمنٹ کے کھونٹے پر ناچ رہے ہیں ہماری تمام بہادریاں اور ہماری تمام جراتیں اس ایک بات سے ضائع ہو جاتی تھیں کہ