خطبات محمود (جلد 16) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۵ء کے اخلاق کے تابع ہیں۔کم از کم جب تک کیپٹن ڈگلس زندہ ہے انگریز قوم کے سامنے میری آنکھ تو نہیں اُٹھ سکتی۔کیا تم سمجھتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت کے مقابلہ میں ہماری تکالیف کوئی حقیقت رکھتی ہیں۔کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ ہمیں خواہ کس قدر بھی تکالیف دی جائیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر کوئی حرف نہ آئے۔اگر تمہیں یہ پسند ہے تو پھر اس واقعہ کو موجودہ واقعات پر جو اہمیت حاصل ہے اس کا تم کو انکار نہیں ہوسکتا۔اس وقت اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عزت پر داغ لگ جاتا تو وہ بہت زیادہ تکلیف دہ بات ہمارے لئے ہوتی۔پس ہم موجودہ ظالم انگریزوں کے فعل کی وجہ سے اس منصف انگریز کے فعل کو کس طرح بھول سکتے ہیں بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچی محبت رکھنے والے تو قیامت تک اس فعل کو نہیں بھولیں گے اور کپتان ڈگلس کی عزت بہت سے بادشاہوں سے بھی زیادہ کی جائے گی اور اس کی وجہ سے ساری انگریز قوم سے حسنِ سلوک کیا جائے گا پھر اسی پنجاب میں سر ایڈوائر جیسا آدمی بھی گزرا ہے ان کے زمانہ میں ایک انگریز ڈپٹی کمشنر نے میرے ساتھ سخت لہجہ میں گفتگو کی اور سر موصوف کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے پہلے بدل دیا اور پھر اس کا تنزل کر دیا اور آخر اُ سے ریٹائر ہو کر واپس جانا پڑا۔وہ فخر سے کہا کرتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے ایک ہندوستانی کے مقابل پر ایک انگریز افسر کوسزا دی۔بے شک وہ ڈپٹی کمشنر مجرم تھا اور میں حق پر تھا مگر دیکھنا تو یہ ہے کہ اس سے پہلے حکام پر سیج (PRESTIGE) کے خیال سے ہندوستانی کی ہتک کا خیال نہیں کیا کرتے تھے۔پھر اسی صوبہ میں سر جیفری ڈی مونٹ مورسی جیسے انسان بھی گزرے ہیں۔آج بھی یہ لوگ ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔سر تھامسن چیف کمشنر دہلی کے متعلق مجھے یاد نہیں کہ ہم نے انہیں کوئی پیغام بھیجا ہو اور انہوں نے فوراً خندہ پیشانی سے ہمارا کام نہ کر دیا ہو حالانکہ بعض اوقات ان کا اس سے کوئی تعلق نہ ہوتا۔پھر اسی ضلع میں منصف افسر رہے ہیں۔مباہلہ والوں کی شورش کے ایام میں بھی انگریز ڈپٹی کمشنر تھے جو اچھی طرح انصاف کرتے رہے ان سے پہلے یہاں ایک ڈپٹی کمشنر مسٹر واٹسن گزرے ہیں میں جب انگلستان گیا تو وہ لندن میں مجھ سے ملنے آئے حالانکہ وہ کہیں باہر رہتے تھے۔پھر یہاں مسٹر اوگلوی رہے ہیں ان سے بھی جن لوگوں کو واسطہ پڑا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت منصف اور دلیر آدمی تھے۔بعد میں وہ پنجاب گورنمنٹ میں ہوم سیکرٹری ہو گئے جب مدیح کے گرائے جانے کے ایام میں