خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 454

خطبات محمود ۴۵۴ سال ۱۹۳۵ء یہاں تعزیری پولیس کا سوال پیدا ہوا تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ان کے پاس بھیجا کہ قادیان کا نام اس میں رکھنا غلطی ہے کیونکہ قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے۔انہوں نے پہلے کہا کہ جماعت احمدیہ کو مستثنیٰ کر دیا جائے مگر چوہدری صاحب نے کہا کہ قادیان کے تقدس کا تقاضا ہے کہ وہاں کے ہندوؤں اور سکھوں کو بھی مستی کر دیا جائے اور انہوں نے ایسا ہی کر دیا اور کہا کہ گورنمنٹ کا فرض ہے کہ مقدس مذہبی مراکز کا احترام کرے اور قادیان کا نام نکال دیا اب بتاؤ ایسے لوگوں کی موجودگی میں تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ پنجاب گورنمنٹ بُری ہے۔مباہلہ والوں کی شورش کے ایام میں یہاں پہلے مسٹرلین را برٹ تھے پھر مسٹر مارسدن اور پھر مسٹر جنکنز ڈپٹی کمشنر رہے ہیں اور باوجود اس کے کہ اس زمانہ میں ملک میں بہت فسادات ہو رہے تھے انہوں نے انصاف کو قائم رکھا۔میں سر باول کا نام پہلے لے چکا ہوں میرا ذاتی تجربہ ہے کہ وہ اوّل درجہ کے نیک اور شریف افسر تھے میرے ساتھ ان کو جیسی عقیدت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ میرے ایک عزیز کے خلاف ان کے انگریز افسر نے بالا افسروں کے پاس شکایت کی۔مجھے پہلے تو علم نہ ہو امگر جب علم ہوا تو میں نے سر ہاول کو کہلا بھیجا کہ درست واقعات یوں ہیں انہوں نے کہا میرا تعلق تو نہیں لیکن میں کوشش کروں گا۔اس کے متعلق انہوں نے اس صیغہ کے افسر کو جو چٹھی لکھی اس کی ایک نقل مجھے بھی مل گئی۔انہوں نے اس میں لکھا کہ گو شکایت کرنے والا انگریز ہے مگر مجھے جماعت احمدیہ کے امام کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے بتایا ہے کہ واقعات یوں ہیں اور اگر چہ واقعات ان کے چشم دید نہیں لیکن مجھے ان پر اس قدر یقین ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بات بغیر تصدیق کے پیش نہیں کر سکتے اس لئے ان کی بات ضرور کچی ہے پس آپ اس معاملہ کی بذات خود تحقیق کریں صرف رپورٹ پر انحصار نہ کریں۔ابھی ابھی درد صاحب ان سے ملے تھے اور انہیں موجودہ حالات سنائے تھے انہوں نے سن کر کہا کہ آپ کی جماعت تو مذہبی جماعت ہے آپ خوب جانتے ہیں کہ اس حکومت کے اوپر ایک اور حکومت ہے اس لئے جو افسر نا انصافی کر رہے ہیں وہ سزا سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کی وجہ سے آپ ہماری دوستی کو نہیں توڑیں گے۔ان کے علاوہ ہزاروں افسر ایسے ہی ہوں گے جن کے ہم واقف نہیں کیونکہ واقفوں کی قلیل تعداد میں سے اگر اتنے اچھے آدمی ہمیں معلوم ہوئے ہیں تو جن سے ہم واقف نہیں ان میں بھی ضرور ایسے آدمی ہوں گے۔ایک مثال مجھے اور یاد آ گئی وہ انگریز سیشن جج جن کے