خطبات محمود (جلد 16) — Page 452
خطبات محمود ۴۵۲ سال ۱۹۳۵ء بلایا گیا ان کا نام اریمار چنٹ تھا ، وہ تو شاید اب فوت ہو چکے ہیں مگر ان کے بڑے لڑکے اس وقت فوج میں لیفٹیننٹ ہیں S۔P صاحب نے کہا کہ میں خود اس مقدمہ کو جھوٹا سمجھتا ہوں ، گواہ مشن والوں کے قبضہ میں ہے اسے آپ میرے حوالہ کر دیں ، میں اس سے حقیقت حال معلوم کرلوں گا۔چنانچہ ایسا کیا گیا۔اسے جب S۔P نے پوچھا کہ اصل معاملہ کیا ہے؟ تو اس کا رنگ فق ہو گیا۔صاحب نے کہا کہ تسلی رکھو اب تمہیں مشن والوں کے حوالہ نہیں کیا جائے گا مگر وہ سخت ڈرا ہو ا تھا۔آخر اسے بہت تسلی دی گئی کہ اب تم مشن والوں کے پاس نہیں جاؤ گے تو وہ قدموں پر گر گیا اور اس نے کہا کہ میں کسی لالچ اور غرض کے لئے ان کے پاس گیا تھا انہوں نے مجھے ڈرایا کہ تم کو چور قرار دے کر پولیس کے سپرد کر دیں گے ورنہ کہو کہ مجھے مرزا صاحب نے پادری صاحب کو قتل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔آخر مقدمہ چلا اور کیپٹن ڈگلس نے فیصلہ کیا کہ مقدمہ جھوٹا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیسی پادریوں پر مقدمہ کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ اصل قصور انہی کا ثابت ہوا تھا مگر آپ نے مقدمہ کرنے سے انکار کر دیا۔یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں۔صوبہ کا ذمہ دار افسر توجہ دلاتا ہے کہ سزا دی جانی چاہئے ، مجسٹریٹ خود متعصب ہے لیکن جب اسے یقین ہو جاتا ہے کہ آپ بچے ہیں تو وہ قطعا اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ مقابل پر انگریز مدعی ہے ،صوبہ کا بڑا افسر سزا دلوانا چاہتا ہے اور یہ شخص میرے اپنے مذہب کا سخت مخالف ہے ، اس پر کوئی بات اثر ہی نہیں کرتی اور وہ آپ کو صاف بری کر دیتا ہے۔کوئی کہہ سکتا ہے یہ ایک مثال ہے؟ مگر میں کہتا ہوں بعض دفعہ منفر دمثال بہت بڑا اثر پیدا کر دیا کرتی ہے۔حضرت ہاجرہ ایک ہی عورت تھیں ، مصر کی رہنے والی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بیاہی گئیں لیکن رسول کریم ﷺ نے ایک دن صحابہ سے فرمایا کہ جس دن مسلمان مصر فتح کریں مصریوں کا لحاظ رکھیں کیونکہ ہماری دادی وہاں کی تھی۔دو ہزار سال پہلے کی ایک لڑکی کا کتنا لحاظ ہے۔پھر سارے طائف کی عورتوں نے تو رسول کریم ﷺ کو دودھ نہ پلایا تھا لیکن جب اہل طائف نے ایسی جنگ کی کہ قریب تھا سارے مسلمان مارے جاتے مگر آخر وہ قید ہو گئے تو آپ نے ایک مہینہ تک ان کے اموال کو تقسیم نہیں کیا۔ایک ماہ کے بعد جب آپ کی رضاعی بہن آئیں تو آپ نے فرمایا بہن ! میں تو ایک ماہ پورا تمہارا انتظار کرتا رہا اور انتظار کے بعد مال تقسیم کیا ہے۔اب تم یا تو مال لے جاؤ اور یا قیدی۔اس نے قیدیوں کو ترجیح دی اور آپ نے ثقیف کے سب قیدی رہا کر دئیے۔پس ہم رسول کریم