خطبات محمود (جلد 16) — Page 444
خطبات محمود م م م سال ۱۹۳۵ء اور جب وہ باہر آ جاتا ہے تو ساتھ ہو جاتے ہیں۔گویا منصوبہ بازی سے روکنے کا یہ نرالا طریق ہے کہ مجلس میں تو اکیلے شامل ہونے دیا جائے اور چلتے وقت پہرہ ہو۔گویا سوتے سوتے یا چلتے چلتے تو خطرہ ہے کہ وہ کوئی منصوبہ نہ کرے لیکن اپنی مخصوص مجلسوں میں بیٹھنے کی صورت میں اسکے متعلق کوئی اس قسم کا خطرہ نہیں۔بہر حال سپاہی کسی غرض سے ہوں مگر نظر آتے ہیں اور جیسا کہ ایک بالا افسر نے بتایا ہے وہ بالا افسروں کی طرف سے ہیں ، مقامی پولیس کی طرف سے نہیں اس لئے ہم مجبور ہیں کہ سمجھیں یہ حکومت کی طرف سے ہی انتظام ہے۔پس گورنمنٹ جو کچھ کرتی ہے وہ نظر آ جاتا ہے۔گو میں یہ بھی مانتا ہوں کہ جس طرح ہم غلطی کر سکتے ہیں گورنمنٹ بھی غلطی کر سکتی ہے مگر بہر حال اس کے اختیار کردہ طریق، نظر ضرور آ جاتے ہیں اور ہماری اطلاعات کے باوجود حکومت نے جو کچھ کیا وہ ظاہر ہے۔اس کی طرف سے اس گلی میں پہرہ تک کا انتظام نہیں کیا گیا۔ہزاروں لوگ گواہ ہیں کہ اس گلی میں پہرہ کا کوئی انتظام نہ تھا اور باوجود اس کے نہیں تھا کہ حکومت کو بروقت اطلاع دے دی گئی تھی کہ اس گلی میں ایسا حملہ ہونے والا ہے۔حکومت کو اس حملہ آور کے آگے پیچھے رکھنے کے لئے تو سپاہی مل گئے مگر اس کے لئے کوئی نہ مل سکا کہ جس جگہ حملہ ہونے والا تھا با وجود اطلاع کے وہاں پہرہ مقرر کر دیا جاتا۔یہ ایک ایسی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آسکتی اور یقیناً ہم سمجھتے ہیں جس وقت یہ باتیں اوپر کے حکام کے پاس پہنچیں گی تو وہ ضرور توجہ کریں گے۔لوکل حکام تو کئی ذاتی جھگڑوں میں مبتلاء ہوتے ہیں لیکن مرکزی حکومت ان باتوں سے بالا ہوتی ہے۔بہر حال اس وقت تک ضلع کے حکام نے تو کوئی توجہ نہ کی تھی اور پھر یہ بات ضلع کے حکام تک ہی محدود نہیں ، اوپر کے بعض افسر بھی ایسا ہی سلوک کر رہے ہیں اور ان کو بھی ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔جب بھی کوئی شکایت ان کے پاس کی جاتی ہے وہ کہہ دیتے ہیں احمدی مبالغہ کرتے ہیں ، ” الفضل، میں جھوٹی خبریں شائع ہوتی ہیں بلکہ ہمارے ایک دوست نے جب ایک سرکاری افسر سے ذکر کیا کہ حضرت خلیفہ اسی نے گزشتہ خطبہ میں برطانوی قوم کی تعریف کی ہے۔اس نے کہا کہ پھر کیا ؟ اگلے خطبہ میں کہہ دیں گے کہ بعض افسر غدار ہیں۔یہ ایک ذمہ دار افسر کا بیان ہے جس کے متعلق کسی کو امید نہ ہو سکتی تھی کہ وہ ایسا بے قابو ہو جائے گا۔غرض یہ وقوعہ جو ہوا اس کے پہلے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی گئی۔مرکزی حکومت پر تو کوئی الزام نہیں کیونکہ شاید اسے اتنا موقع نہیں ملایا وہ لاہور کے کاموں میں پھنسی ہوئی تھی۔مگر ضلع کے حکام ایسے حالات میں نہ تھے اور وہ اگر