خطبات محمود (جلد 16) — Page 443
خطبات محمود ۴۴۳ سال ۱۹۳۵ء کریں۔ہم کیا بتائیں کہ کیا کرو۔جب مولوی ظفر علی صاحب کے متعلق حملہ کی ایک جھوٹی خبر شائع ہوئی تھی تو ساری پولیس کسے پوچھ کر وہاں پہنچ گئی تھی اور حکام کسے پوچھ کر انتظام کرنے لگے تھے۔پس پولیس بھی اور سول افسر بھی انتظام کر سکتے ہیں ہم کیا تجویز بتا سکتے ہیں۔یہاں میں ایک اور تجویز کا بھی ذکر کر دیتا ہوں جو ایک افسر نے بتائی ہے اور وہ یہ کہ اُس نے کہا کہ سوائے اس کے کیا کر سکتے ہیں کہ فریقین کی ضمانتیں لے لیں۔انگریزی کی ایک ضرب المثل کا ترجمہ ہے کہ ضرر رسانی تو کی تھی اس کے ساتھ ہتک بھی شامل کر دی یہی حرکت اس افسر نے کی۔اول تو احمدیوں پر ظلم ہوا کہ ان کے عزیز ترین وجودوں پر حملہ ہوا ، اس کے بعد انہیں یہ سنایا گیا کہ اس کا علاج یہ ہے کہ جماعت کے مرکز میں احمدیت کے سرکردہ وجودوں کی بھی ضمانت لے لی جائے اور ان کے مقابل پر چند گدا گروں کی بھی ضمانت لے لی جائے۔اس وقت تک تو حکومت کی طرف سے اتنی ہی توجہ ہوئی ہے۔آگے جو ہو گا وہ بھی واقعات بتا دیں گے۔۔بہر حال ہمیں بعض اور سازشوں کا بھی علم ہے جنہیں ہم حکومت تک پہنچا دیں گے اور گوحکومت نے اس وقت تک ہم سے کوئی ہمدردی نہیں کی مگر آخر ایک وقت آ جاتا ہے جب ظلم برداشت نہیں ہو سکتا۔ممکن ہے کہ ایک وقت آئے جب حکومت یہ سمجھ لے کہ اب ہمارے ماتحت افسر حد سے بڑھ رہے ہیں لیکن اگر وہ کچھ بھی نہ کرے تو بھی ہمارے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور ہم دنیا کو بتاسکیں گے کہ ہم نے حکومت کو بر وقت اطلاع دے دی تھی مگر وہ کوئی انتظام نہ کر سکی۔اس واقعہ کا دوسرا اثر حکومت پر ہے۔ہم نے اس واقعہ سے پہلے اخبار میں شائع کر دیا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے اور یہ بات دنیا سے مخفی نہیں رہ سکتی۔جو بات اخباروں میں آ جائے اس کا کون انکار کر سکتا ہے۔اب اگر حکومت بتا دے کہ اس اطلاع پر اس نے کوئی کارروائی کی تو ہم اپنی غلطی تسلیم کر لیں گے۔حکومت کی طرف سے حفاظت کے جو انتظام کئے جاتے ہیں وہ ظاہر ہیں۔مثلاً وہی شخص جس نے میاں شریف احمد صاحب پر حملہ کیا جب وہ گھر سے نکلتا ہے تو دو یا زیادہ سپاہی اس کے آگے پیچھے ہوتے ہیں اور رات کو جب وہ سوتا ہے تو بھی دو سپاہی اس کے مکان پر پہرہ دیتے ہیں۔ایک ذمہ وار افسر نے اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ سپاہی اس کے ساتھ اسلئے رکھے جاتے ہیں کہ وہ کسی اور شرارت میں حصہ نہ لے سکے یا کسی سازش میں شریک نہ ہولیکن دیکھا گیا ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں جاتا ہے تو سپاہی ڈیوڑھی یا چوبارہ کے نیچے بیٹھے رہتے ہیں