خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 445

خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۵ء چاہتے تو انتظام کر سکتے تھے۔کہتے ہیں کہ بوجھ کا آخری تنکا اونٹ کی کمر توڑ دیتا ہے۔بہت سے افسر ایسے گزرے ہیں جو فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے حُسنِ سلوک سے پچاس ہزار یا لا کھ بلکہ کئی لاکھ کی ایک ایسی جماعت ہندوستان میں چھوڑ دی ہے جو اپنی جانیں قربان کر کے بھی برطانیہ سے تعاون کرے گی مگر موجودہ افسر جا کر کیا کہہ سکتے ہیں سوائے اس کے کہ صاحب ! فخر نہ کریں ہم اسی جماعت کے دلوں کو تو ڑ کر آئے ہیں کیا یہ بات ان کی اپنی یا ان کی حکومت کی شہرت کا موجب ہو گی۔یہ بات ظاہر ہے کہ اب اگر یہ جماعت تعاون کریگی یا قانون شکنی نہ کرے گی تو اس وجہ سے کہ ان کے مذہبی حکم کے خلاف ہے اور اگر قانون شکن جماعتوں کے ساتھ نہ ملے گی تو اپنے خلیفہ کے ڈر کی وجہ سے ورنہ جو حالات ہمارے لئے پیدا کئے گئے ہیں کیا یہ ممکن نہ تھا کہ ہمارے لوگ ان لوگوں سے جا ملتے جو ا سکے قوانین کو توڑ کر حکومت کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ہمارے ہاتھ خدا اور اس کے رسول ، اس کی کتاب اور خدا کے مامور نے باندھ دیئے ہیں۔بعض حکام کے افعال نے جماعت احمدیہ کو ایک مشین بنا دیا ہے جو قانون کی پابندی کرتی ہے اور کرے گی لیکن مشین اپنا رستہ چھوڑ کر آقا کی خدمت نہیں کر سکتی۔ایک پانچ روپیہ کا نوکر اپنا رستہ چھوڑ کر بھی دیکھے گا کہ مالک کا نقصان نہ ہو مگر دس لاکھ کی مشین اس کا کوئی خیال نہیں رکھ سکتی بلکہ وہ اپنے رستہ پر چلتی جائے گی۔تو ان حکام نے جماعت کو ایک مشین بنا دیا ہے پہلے وہ اپنا رستہ چھوڑ کر بھی اس امر کا خیال رکھتی تھی کہ حکومت برطانیہ پر کوئی حرف نہ آئے مگر اب وہ ایسا کہاں کرے گی جب تک کہ حکومت کی طرف سے اس ہتک کا ازالہ نہ کیا جائے اور ان حالات کے ذمہ دار حکام کو سزا نہ دی جائے۔ایک ایسے ہی افسر کی شکایت اوپر کی گئی تھی۔جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ بعض لوگوں نے کی تھی اور وہ اس معاملہ میں اتنا گھلا مجرم تھا کہ اگر سچ بولتا تو ضرور پکڑا جاتا۔میں نے اسے کہلا بھیجا کہ تم دو آگوں میں سے ایک میں ضرور مبتلاء ہو گے۔اگر سچ بولوتو حکومت سے سزا پاؤ گے اور اگر جھوٹ بولو تو خدا کے عذاب میں گرفتار ہو گے۔اس وقت تو اس نے ہنس کر کہا کہ نہیں میں ضرور سچ بولوں گا مگر جب اس سے جواب طلبی ہوئی تو اس نے صاف جھوٹ بول دیا اور اس طرح خدا کی آگ کو اختیار کر لیا حالانکہ یہ زندگی اصل زندگی نہیں۔یہاں بڑے بڑے امراء، کروڑ پتی ، بادشاہ سب سو پچاس سال جیتے اور پھر مر جاتے ہیں اصل زندگی وہی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔اگر چہ وہ