خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 442

خطبات محمود ۴۴۲ سال ۱۹۳۵ء سراغ رسانی کے کئی ذرائع اس کے پاس ہیں ، وہ روپیہ بھی خرچ کیا کرتی ہے پس وہ خود ہی کوئی ذرائع اختیار کر کے یہ سازش بھی نکال لے۔ہم تو موجودہ حالات میں انگریز افسروں کو بھی اپنے ذرائع معلومات بتانے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ وہ ماتحتوں کو بتائیں گے اور ماتحت احرار کو بتا دیں گے اور اس طرح ہمارے وہ ذرائع بند ہو جائیں گے۔ہم بدظنی نہیں کرتے کہ بڑے افسر ایسا کریں گے مگر یہ جانتے ہیں کہ وہ بہر حال ماتحتوں سے کام کراتے ہیں جن میں سے بعض کے متعلق ہمیں ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ وہ نہ صرف احرار سے ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ انہیں اطلاعات دیتے ہیں اور ایسی صورت میں ہم کس طرح اپنے ذرائع معلومات بند کر سکتے ہیں۔ہاں اگر حکومت کوئی آزاد کمیشن بٹھائے گی تو اس کے سامنے ہم یہ سب حالات رکھ دیں گے۔بہر حال لوگوں پر یہ حقیقت ظاہر ہے اور ایک حصہ حکام کا بھی جانتا ہے کہ یہ سازش ہے اور یہ بات بھی ہر شخص جانتا ہے کہ یہ کھیل دونوں طرف سے کھیلا جا سکتا ہے۔احمدی بھی کھیل سکتے ہیں اور اس وجہ سے احمدیوں کی عظمت ان کے دلوں میں بڑھ رہی ہے۔اس سلسلہ میں ہمیں اور بھی بعض سازشوں کا علم ہوا ہے جو ہم حکومت تک پہنچا دیں گے مگر اس خیال سے نہیں کہ وہ انتظام کرے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ بعض بڑے کاموں میں مصروف رہنے کی وجہ سے یا شاید بعض ماتحت افسروں کے دھوکا دینے کی وجہ سے اس وقت تک کوئی انتظام نہیں کر سکی مگر ہم اسے ضرور بتا دیں گے تا اس پر حجت پوری کر دیں۔میاں شریف احمد صاحب پر حملہ کی اطلاع ہم نے ۱۸ جون کے الفضل میں شائع کر دی تھی اور بعد میں حکومت کو بھی اطلاع دے دی تھی مگر وہ کچھ نہ کرسکی لیکن اس سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ ہمارا پہلو بہت مضبوط ہو گیا ہے۔اور اسی طرح حجت پوری کرنے کے لئے ہم حکومت کو دوسری سازشوں کا علم بھی دے دیں گے اور اس طرح ان کے وقوعہ کے بعد ہمارے ہاتھ اور بھی مضبوط ہو جائیں گے۔ضمنا میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک بعینہ اس طرح جس طرح وہ میزبان جو مہمان کو ٹالنا چاہے اس کے پاس بیٹھ کر پوچھنا شروع کر دیتا ہے کہ بتائیے میں آپ کی کیا خاطر کروں؟ بعض افسر ہم سے یہ پوچھتے ہیں کہ اچھا تم بتاؤ ہم کیا کریں؟ وہ اتنا نہیں سوچتے کہ نو کر تم ہو، تخوا ہیں تم لے رہے ہو ، ساری عمر ایسے کاموں میں گزار نے کیوجہ سے تجربہ تمہیں ہے اور پوچھتے ہم سے ہو کہ کیا