خطبات محمود (جلد 16) — Page 440
خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۵ء کرے ان کے بعض نئے دوستوں پر یہ اثر نہ کرے مگر باقی شرفاء پر یہ ضرور اثر کرے گا اور ان کے دلوں میں احرار کے خلاف نفرت کا جذبہ پیدا کر کے رہے گا اور کر رہا ہے لیکن اگر اس وقت ہمارے دوست بھی فساد کر دیتے یا بعد میں کر دیں تو دنیا یہی کہے گی کہ لڑائی تھی۔انہوں نے بھی مار لیا اور اُنہوں نے بھی۔پس ایک بہت بڑا فائدہ اس حملہ کا یہ ہوا ہے کہ لوگوں کو محسوس ہو گیا ہے کہ احمدی مظلوم ہیں۔وہ لوگ جو کہتے تھے کہ قادیان میں احمدیوں کی حکومت ہے وہ اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں کہ قادیان میں احرار جتنا زیادہ سے زیادہ حملہ کر سکتے تھے ، انہوں نے کر لیا مگر پھر بھی احمدیوں نے اپنے جذبات پر قابو رکھا۔اس سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ قادیان میں احمدیوں کی ناجائز حکومت نہیں بلکہ ایک اور ظالم گروہ نے یہاں حکومت قائم کر رکھی ہے اور وہ انگریزی قانون کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اگر احمدی بھی ایسا ہی کریں تو احرار کے مٹھی بھر آدمی ایک گھنٹہ بھی یہاں نہیں رہ سکتے۔یہ صرف ہماری شرافت کی وجہ سے ہے کہ وہ یہاں رہتے ہیں اور ایسے واقعات ہو رہے ہیں اور کوئی خطرناک نتیجہ پیدا نہیں ہوتا اور یہ شرافت کا نمونہ شرفاء پر اثر کئے بغیر نہیں رہ سکتا اور اس کے مقابل پر جو کھڑا ہوگا وہ ذلیل ہو گا خواہ وہ احرار ہوں یا حکام۔ایک وقت انسانی فطرت ضرور اُبھرے گی اور کہے گی کہ تم لوگ ظالم ہو اور احمدی مظلوم ہیں۔احرار کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے کہ ثابت کریں ان کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ایک انفرادی فعل ہے مگر نہ وہ خود اور نہ حکام میں سے ان کے دوست اس سازش کو چھپا سکتے ہیں۔یہ ایک ایسی کھلی ہوئی بات ہے کہ ہر شخص اسے بخوبی جانتا ہے اور جو احراری لیڈر اس سے انکار کرتا ہے وہ سامنے آئے اور اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر تم کھائے کہ یہ سازش نہیں تھی یہ بالکل آسان بات ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا ئیں کہ یہ سازش نہیں تھی۔بلکہ یہ صرف ذاتی لڑائی تھی اور اگر یہ سازش ہو تو ہم پر خدا کی لعنت ہو۔وہ قسم کھائیں اور پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرتا ہے۔آخر غور کرنا چاہئے کہ اگر یہ سازش نہ تھی تو یہ کیا چیز تھی جس نے ہمیں پہلے اطلاع دے دی کہ فلاں گلی میں حملہ ہو گا اور فلاں شخص پر ہو گا۔اس سازش کے اصل واقعات اگر چہ راز ہیں جنہیں میں فی الحال ظاہر نہیں کر سکتا مگر اس کے متعلق چند موٹی موٹی باتیں بیان کرتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے کہ حملہ آور پہلی ہی شام کو احرار کے ذمہ دار آدمیوں کے ساتھ دیر تک باتیں کرتا