خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 439

خطبات محمود ۴۳۹ سال ۱۹۳۵ء قائم ہوں۔اور اس واقعہ کے بعد جس کا ذکر میں اپنے خطبوں میں کرتا رہا ہوں ہر قوم کے لوگوں کی طرف سے اس پر اظہار نفرت کیا گیا ہے۔بعض بہت دُور کے علاقہ کے رہنے والوں کے بھی خطوط آئے ہیں۔چنانچہ پرسوں یا اس سے ایک ہی روز قبل میسور کے علاقہ سے ایک قاضی صاحب کا خط آیا ہے جس پر ایک مولوی صاحب کے بھی دستخط ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ اگر چہ ہم آپ کو نہیں جانتے اور آپ ہم سے واقف نہیں ہیں مگر احرار کے اس فعل کو نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔تو اتنے دور دراز مقامات پر بھی یہ محسوس کیا گیا ہے کہ یہ فعل شرافت کے خلاف ہے۔اسی طرح ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے بھی ایسے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔بلکہ شاید احرار اور ان کے پشت پناہ بعض حکام کے سوا باقی سب طبائع پر اثر پڑا ہے۔یہ دونوں ضرور خوش ہیں مگر باقی رعایا اور حکام محسوس کر رہے ہیں کہ بات حد سے بڑھتی جارہی ہے۔فطرت انسانی اس بات کو بجھتی ہے کہ ہاتھ تو احمد یوں کے بھی ہیں بلکہ احمدیوں کا ایمان اور جوش تو ایسا ہے کہ دنیا اس کی قائل ہے وہ بھی اگر بدلہ لینا چاہیں تو ایسے شریروں کو کوئی طاقت ان کے ہاتھ سے نہیں بچا سکتی۔جب کوئی قوم ارادہ کر لیتی ہے کہ ہم بدلہ لیں گے تو کوئی بادشاہ، کوئی فوج ، کوئی پولیس اس کو روک نہیں سکتی۔بادشاہ سے زیادہ حفاظت کے انتظامات اور کس کے لئے ہو سکتے ہیں مگر کیا بادشاہ نہیں مارے جاتے۔ابھی تھوڑا ہی عرصہ ہوا ہے کہ سرویا کا بادشاہ ایک اہم پولیٹیکل فیصلہ کے لئے فرانس گیا ، اس کی حفاظت کے لئے سرویا کے افسر اور فرانس کی پولیس اور فوج موجود تھی اور بڑے انتظامات تھے مگر پھر بھی اسے ساحلِ سمندر پر ہی مار دیا گیا۔پھر فوجوں کے کمانڈر بھی مارے جاتے ہیں ، وائسرائے بھی مارے جاتے ہیں۔ہندوستان کا ایک وائسرائے جو بہت شریف آدمی تھا انڈیمان گیا۔اس نے وہاں کے قیدیوں کے ساتھ نیکی کرنے کے لئے یہ سفر اختیار کیا مگر ایک قیدی نے چھرا مار کر اسے مار دیا۔پس یہ بات قطعاً غلط ہے کہ صرف ڈر سے لوگ حملہ نہیں کرتے۔کئی لوگ باوجود طاقت کے اپنی شرافت کی وجہ سے دشمن سے بدلہ نہیں لیتے ، ور نہ بسا اوقات صرف ایک آدمی اُٹھتا ہے اور سارے خاندان کا بدلہ لے لیتا ہے۔تو پھر یہ جماعت ۵۶ ہزار نہ سہی ، ہمیں ہزار ہی سہی ، ہمیں ہزار نہیں دس ہزار بلکہ ایک ہزار ہی سہی ، اگر بدلہ لینا چاہے تو کیوں نہیں لے سکتی۔پس کوئی عقلمند یہ تسلیم نہیں کر سکتا کہ ہمارا یہ رویہ شریفوں پر اثر کئے بغیر رہے گا۔یہ احرار پراثر نہ