خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 438

خطبات محمود ۴۳۸ سال ۱۹۳۵ء سے خریدے۔نہ خرید نے تک تو برداشت کیا جاسکتا تھا مگر فروخت نہ کرنے کا نتیجہ یہ تھا کہ انہیں کھانے کے لئے بھی کچھ نہ مل سکتا۔مکہ میں زمینداری تو ہوتی نہیں قافلہ والوں کو ممانعت تھی کہ مسلمانوں کے پاس کوئی چیز فروخت نہ کریں اس طرح انہیں نہ آٹا مل سکتا اور نہ کوئی اور چیز گویا ان کے لئے زندگی کے سب سامان بند کر دیئے گئے۔اس طرح مسلمانوں پر یہ مصائب بڑھتے گئے حتی کہ ایک صحابی کہتے ہیں آخر وہ دن آ گئے کہ چونکہ کھانے پینے کو کچھ نہ ملتا تھا ہمیں آٹھ آٹھ دس دس روز پاخانہ نہ آتا تھا اور چونکہ پتے وغیرہ کھا کر گزارہ کرتے تھے ، اس لئے جب آتا تو مینگنیاں سی ہوتی تھیں۔اے انہی تکالیف کے صدمہ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور دوسرے صحابہ کو بھی اس قسم کے بہت سے صدمات برداشت کرنے پڑے لیکن آخر یہ ظلم ہی ظالم کی طاقت کو توڑنے کا موجب بن گیا کیونکہ جب بات یہاں تک پہنچی تو وہ طبائع جو مختلف باتوں سے اپنے دلوں کو تسلی دے لیتی تھیں ان کو یہ احساس ہوا کہ اب بات حد سے بڑھتی جا رہی ہے۔ایک ان میں سے اُٹھا اور اپنے ایک گہرے دوست کے پاس گیا اور اسے کہا کہ میں تم پر اعتبار کر کے ایک خاص مشورہ کے لئے آیا ہوں۔تم کو معلوم ہے کہ مکہ والوں نے ایک معاہدہ کر کے اسے کعبہ میں لٹکا رکھا ہے کہ مسلمانوں کے پاس نہ کوئی چیز فروخت کی جائے اور نہ ان سے خریدی جائے ؟ اس نے کہا ہاں۔پھر اس نے کہا غور کر و آخر ان کا کیا قصور ہے کہ انہیں اس قدر ایذا ئیں دی جاتی ہیں۔جب ہم لوگ آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں اور بیوی بچوں میں دن گزار رہے ہیں تو ان کو بھوکے پیاسے مارنا بہت بڑا ظلم ہے جسے میں تو برداشت نہیں کر سکتا۔اس نے آدمی بھی ایسا ہی چُنا تھا جس کی طبیعت سے وہ واقف تھا۔اُس نے جواب میں کہا کہ میں بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا پھر اس نے پوچھا کوئی اور ایسے لوگ بتاؤ جو ہمارے ہم خیال ہوں۔اس نے بعض نام بتائے چنانچہ وہ ان کے پاس گئے انہوں نے بھی اتفاق کیا اور ان سب نے تلوار میں نکال لیں اور کہا کہ خواہ جان چلی جائے ہم اس معاہدے کو توڑتے ہیں اور جب انہوں نے دلیری سے کعبہ میں جا کر اس معاہدے کو پھاڑ دیا۔سے تو سینکڑوں ہزاروں شریف الطبع لوگ جو ظالموں کے رعب میں تھے سامنے آگئے اور ان کے ہم خیال ہو گئے اور اس طرح رسول کریم ہے ، آپ کے رشتہ دار اور سب صحابہ اس وادی سے باہر آ گئے۔پس ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو لوگوں کی طبائع کو اس طرف مائل کر دیتا ہے کہ وہ انصاف پر