خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 437

خطبات محمود ۴۳۷ سال ۱۹۳۵ء ایسی نہیں ہوسکتی جو شرفا ء سے خالی ہو۔پھر ایک ایسی قوم کے متعلق جسے رسول کریم ﷺ کی تعلیم پہنچی ہو ، جو اپنے آپ کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتی ہو اور جس کے کانوں میں خدا کی آواز پڑتی ہو کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ نیک اور شریف لوگوں سے خالی ہے۔بعض اوقات ظلم اپنی کثرت کی وجہ سے خود بخود تو جہ کو کھینچنے کا موجب ہو جاتا ہے۔لوگ ایک وقت تک ظلم کو دیکھتے ہیں بلکہ اس میں شریک بھی ہو جاتے ہیں اور بعض شریک تو نہیں ہوتے مگر بے پروا ہو کر ایک طرف بیٹھے رہتے ہیں۔مگر ظلم جب حد کو پہنچ جائے تو ان کی فطرت جوش میں آ جاتی ہے اور کہتی ہے کہ اس سے زیادہ ظلم برداشت نہیں کیا جا سکتا اور وہ لوگ ظالموں سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تمہیں شریف اور جائز کا روائیاں کرنے والا سمجھا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ تم بُرے لوگ ہو۔غالب نے کہا ہے کہ درد کا حد ނ گزرنا ہے دوا ہو جانا جب درد حد سے بڑھ جاتا ہے تو وہ بھی ایک علاج ہو جاتا ہے۔کئی بیمار اس طرح تباہ ہو جاتے ہیں کہ اُن کو بیماری کی ابتداء میں تکلیف زیادہ نہیں ہوتی اس لئے وہ علاج کی طرف توجہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مرض لا علاج صورت اختیار کر لیتا ہے۔پھر کئی بیمار اس طرح اچھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں ابتداء میں ہی زیادہ تکلیف ہونے لگتی ہے اور وہ فوراً کسی لائق طبیب سے مشورہ لے لیتے ہیں۔پھر بسا اوقات مرض کا بڑھنا انسان کے اندر شفاء کا مادہ پیدا کر دیتا ہے اسی طرح ظلم بھی جب حد سے گزرتا ہے تو وہ علاج کا موجب ہو جاتا ہے۔رسول کریم ﷺ کو مکہ والے ایک وقت تک دُکھ دیتے رہے ، اور دوسرے لوگ دیکھتے ہوئے خاموش رہے۔ان میں بھی ایسے شرفاء موجود تھے جو مکہ والوں کے رویہ کو نا پسند کرتے تھے مگر سمجھتے تھے کہ مسلمانوں نے خود ہی ایک نیا مذ ہب نکالا ہے اور پھوٹ ڈال دی ہے جس کے وہ خود ذمہ دار ہیں ہم کیا کریں، اس طرح وہ اپنے دلوں کو تسلی دے لیتے۔یہاں تک بڑھتے بڑھتے ایک وقت ایسا آیا کہ پورے طور پر رسول کریم ﷺ ، آپ کے رشتہ داروں اور صحابہ کا بائیکاٹ کر دیا گیا اور آپ ان کو ساتھ لے کر ایک وادی میں چلے گئے وہاں ان کی نظر بندوں کی سی حالت تھی اور یہ کوئی ایک دن دودن ، ہفتہ دو ہفتہ ،مہینہ دومہینہ کی بات نہ تھی بلکہ سالہا سال تک یہ حالت چلی گئی کفار نے فیصلہ کیا کہ کوئی شخص ان کے ہاتھ نہ کوئی چیز فروخت کرے اور نہ ان