خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 424

خطبات محمود ۴۲۴ سال ۱۹۳۵ء ہمارے جذبات کا اس طرح اندازہ نہ کر سکنے پر جس طرح وہ ہمارے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں معذور ہے لیکن بہر حال اس کی اس ناواقفیت کی وجہ سے ہمارے احساسات میں کوئی کمی نہیں آ سکتی۔اگر ہم دیکھیں کہ کوئی قوم ہمارے مذہبی مقامات مقدسہ پر حملہ کرنے والی ہے تو یقیناً ہمارے جسم کا ذرہ ذرہ غیظ وغضب سے بھر جائے گا اور ہمیں شدید اشتعال پیدا ہو گا اور یقیناً ہمارے جسم اور ہماری روح کا ذرہ ذرہ یہ کہے گا کہ ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے ہمیں ہر ممکن قربانی کرنی چاہئے اور جس طرح بھی ہو سکے انہیں قائم اور محفوظ رکھنا چاہئے لیکن ایک مقدس چیز کی حفاظت کے لئے ہم دوسری مقدس چیز کو قربان نہیں کر سکتے۔میں نے بتایا تھا کہ میں ان جذبات اور احساسات میں کسی سے پیچھے نہیں جو شعائر اللہ کی حفاظت کے لئے تمہارے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں۔میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ میں شعائر اللہ کی عظمت سے پوری طرح آگاہ ہوں اور میں جانتا ہوں کہ مؤمن کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شعائر اور اس کے پاکیزہ مقامات کی حفاظت کرے لیکن اس کے مقابلہ میں ایک اور چیز ہے اور وہ سلسلہ کی روایات ہیں اور یہ سلسلہ کی روایات بھی ایسی ہی مقدس ہیں جیسے اور مقامات مقدسہ۔پس اگر ہم ایک مقدس چیز کو قائم رکھنے کے لئے دوسری مقدس چیز کو نقصان پہنچا دیں تو یقیناً یہ ہماری جلد بازی ہوگی۔میں سمجھتا ہوں کہ انسان ایسے مواقع پر بعض دفعہ ایک ضروری چیز کو بھی بھول جاتا اور اپنے جوشِ انتقام میں بہت کچھ کر گزرتا ہے۔دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی لوگوں کو جوش آتا ہے ، وہ بڑی بڑی اہم باتوں کو بھول جایا کرتے ہیں۔بسا اوقات دیکھا جاتا ہے کہ پہاڑ پر سیر کرتے ہوئے ایک شخص پھسل کر کھڈ میں گر جاتا ہے اور یقینی طور پر اس کی موت واقع ہو جاتی ہے اور اگر کوئی شخص ذرا بھی عقل سے کام لے تو وہ کھڈ میں گرنے والے شخص کے متعلق یہی کہے گا کہ وہ بچ نہیں سکتا ، بارہ چودہ فٹ اونچائی سے گر کر لوگ مر جاتے ہیں تو جو شخص ایک میل یا اس سے بھی زیادہ گہری کھڈ میں گر جاتا ہے وہ کس طرح بچ سکتا ہے۔پس عقلاً یقینی طور پر ایسے شخص کا زندہ نکلنا محال ہوتا ہے اور اس کو بچانے کا خیال بھی بے وقوفی ہوتا ہے لیکن ہر سال یہ نظارے نظر آتے ہیں کہ کئی لوگ ایسی حالت میں کھڑ میں کود جاتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم گرنے والے کو بچالیں گے اور اس طرح وہ خود بھی ہلاک ہو جاتے ہیں۔تو جوش کی حالت میں انسان نتائج کا اندازہ نہیں کر سکتا اور نہ عواقب کا خیال کیا کرتا ہے۔ایسی حالت میں نتائج کا خیال صرف خاص خاص لوگ کر سکتے ہیں عام