خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 423

خطبات محمود ۴۲۳ سال ۱۹۳۵ء نا کام رکھا کیونکہ جو اس کا مقصد تھا وہ پورا نہ ہو الیکن پھر بھی احرار خوش ہیں کہ انہوں نے اتنی جرات تو دکھائی کہ جماعت احمدیہ کے ایک معزز فرد پر حملہ کر دیا۔پس احرار کے جذبات ہمارے جذبات سے بالکل مختلف ہیں۔وہ خوش ہیں کہ ہم نے ایک حملہ کر لیا ، پھر گورنمنٹ کے وہ افسر بھی خوش ہو نگے جو احرار کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور خیال کرتے ہوں گے کہ ہم نے احمد یہ جماعت کو ایک اور ذلت پہنچالی مگر جو احساسات و جذبات ہمارے ہیں وہ نہ صرف اس حملہ کی وجہ سے بلکہ اسے دوسرے حملوں کی ایک کڑی سمجھنے کی وجہ سے بالکل جدا گانہ حیثیت رکھتے ہیں۔مثلاً مردوں سے تجاوز کر کے احمدی جماعت کی عورتوں پر حملہ کرنے کے خیال سے ہی ہر احمدی کپکپا جائے گا ، اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو جائے گا اور وہ فوراً ان نتائج کو سمجھ جائے گا جن کو دوسرے لوگ نہیں سمجھ سکتے۔یا مثلاً ان حملوں کے بعد مقامات مقدسہ پر احرار کے حملہ کا خیال کر کے بھی ایک احمدی کا دل کانپ جائے گا اور وہ ان یقینی نتائج کو فوراً سمجھ جائے گا جسے حکومت نہیں سمجھ سکتی۔ہم سمجھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت ہماری نگاہ میں کیا شان رکھتی ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت کا وقار کتنا قیمتی ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ احمدیت کیا اعزاز رکھتی ہے ، اور ہم سمجھتے ہیں کہ مقامات مقدسہ کی کیا شان ہے اور ان کی حفاظت کے لئے انسان کو کس حد تک قربانیاں کرنی چاہئیں مگر گورنمنٹ ان امور کو نہیں سمجھتی وہ اس مسجد اقصیٰ کو جس میں میں اس وقت خطبہ پڑھ رہا ہوں ایک ویسی ہی اینٹوں اور گارے کی بنی ہوئی مسجد سمجھتی ہے جیسی دنیا میں اور ہزاروں مسجدیں ہیں مگر ایک احمدی کے نزدیک یہ نہایت ہی اعلیٰ درجہ کے مقامات مقدسہ میں سے ہے اور اس کی حفاظت کے لئے صدیوں کی انسانی نسلیں بھی قربان کی جاسکتی ہیں پس نہ گورنمنٹ ہمارے ایک نقطہ نگاہ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے اور نہ وہ ہمارے جذبات کو پورے طور پر سمجھنے پر قادر ہو سکتی ہے۔ہاں اگر جھوٹے طور پر کوئی شخص یہ خبر مشہور کر دے کہ سینٹ پیٹرس کا گر جا گرانے کی کوشش کی جارہی ہے تو پھر اسے معلوم ہو کہ کس طرح اس کے جذبات میں تموج پیدا ہوتا ہے اور دنیا دیکھ لے کہ کس طرح حکومت برطانیہ اپنی ساری فوجوں کے ساتھ سینٹ پیٹرس کے گر جا کی حفاظت کرتی اور اسے گرانے کی کوشش کرنے والوں کو سزا دیتی ہے حالانکہ سینٹ پیٹرس کے گر جا کی جو عزت گورنمنٹ کی نگاہ میں ہے وہ ہماری اس مسجد کی اس عظمت کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی جو جماعت احمدیہ کے دلوں میں ہے۔پس گورنمنٹ اپنے مذہبی اختلاف کی وجہ سے