خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 425

خطبات محمود ۴۲۵ سال ۱۹۳۵ء لوگ صحیح اندازہ نہیں کر سکتے۔وہ تمام چیزوں کو بھول جاتے ہیں اور صرف اپنی محبوب چیز پر جان دینا اپنے مد نظر رکھتے ہیں۔پس ان حالات میں جبکہ جماعت احمدیہ کے افراد کے قلوب سخت زخم رسیدہ ہیں اور ان کے جذبات پھوٹ پھوٹ کر ظاہر ہورہے ہیں ، گورنمنٹ پر اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اسے سمجھنا چاہئے کہ مقامات مقدسہ یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے افراد یا دوسرے احمدی کارکنوں اور احمدی مستورات کے متعلق جماعت احمدیہ کا نقطہ نگاہ کیا ہے اور اگر وہ اس امر کو سمجھنا چاہے تو اس کے لئے کوئی مشکل نہیں۔اگر وہ اس امر کو سمجھ سکتی ہے کہ خانہ کعبہ پر اگر کوئی قوم حملہ کرے تو مسلمانوں کے قلوب کی کیا کیفیت ہوگی ، اگر وہ اس امر کو سمجھ سکتی ہے کہ مسولینی پر اگر کوئی شخص حملہ کرے تو اٹلی والوں کے قلوب کی کیا کیفیت ہو گی ، اگر وہ اس امر کو سمجھ سکتی ہے کہ ہٹلر پر اگر کوئی شخص حملہ کرے تو جرمنی والوں کے قلوب کی کیا کیفیت ہوگی ، اگر وہ اس امر کو سمجھ سکتی ہے کہ مسٹر روز ویلٹ صدر امریکہ پر اگر کوئی شخص حملہ کرے تو امریکہ والوں کے قلوب کی کیا کیفیت ہوگی تو وہ آسانی سے اس امر کو بھی سمجھ سکتی ہے کہ جماعت احمدیہ کے معزز افراد یا اس کے مقامات مقدسہ پر اگر کوئی شخص حملہ کرے تو جماعت احمدیہ کے قلوب کی کیا کیفیت ہو گی۔گو پھر بھی وہ پوری طرح ہماری جماعت کے جذبات کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتی اور گو پھر بھی وہ اس امر کا صحیح اندازہ لگانے سے قاصر رہے گی کہ جماعت احمدیہ کے افراد کو اپنے مقدس مرکز ، مقدس مقامات اور اپنی جماعت کے مقدس افراد سے کتنا تعلق ہے۔یا اسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان سے کتنی گہری عقیدت ہے۔پس با وجود اس کے کہ وہ احمدیت کو سچا نہیں سمجھتی ، با وجود اس کے کہ اس کے بعض افسر احمدیت کے خلاف فتنہ برپا کرنے میں احرار کے ہمنوا ہیں ، پھر بھی حکومت کے طور پر اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امن قائم رکھے اور جس قسم کی جد و جہد کی حالات کو پُر امن بنانے کے لئے ضرورت ہے اسے عمل میں لائے اور وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ احمدی اپنی مساجد یا اپنی جماعت کے مقدس افراد کا کیا درجہ سمجھتے ہیں۔مسجد شہید گنج کا واقعہ ابھی حکومت کی نظروں کے سامنے ہے۔یہ مسجد خاص شعائر اللہ میں سے نہیں لیکن ایک تاریخی مسجد ہے اور اس وجہ سے مسلمانوں کے جذبات اس سے وابستہ ہیں۔حکومت نے دیکھ لیا ہے کہ اس کے تازہ دوستوں احرار کے سوا کوئی مسلمان حنفی ہو ، شیعہ ہو ، اہل حدیث ہو، یا احمدی ہو اس کے انہدام کو برداشت نہیں کر سکا۔آج ہم میں سے ہر ایک کا دل اس