خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 422

خطبات محمود ۴۲۲ ۲۷ سال ۱۹۳۵ء جماعت احمدیہ کو پُر امن رہنے کی تلقین ( فرموده ۱۹ / جولائی ۱۹۳۵ء) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے گزشتہ خطبہ جمعہ میں یہ بتایا تھا کہ واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ وہ حملہ جو مرزا شریف احمد صاحب پر ہوا ہے وہ نہ صرف انکیت بلکہ سازش کا نتیجہ ہے اور یہ دو باتیں اس بات کے ساتھ مل کر کہ متواتر قادیان میں بھی اور باہر بھی جماعت احمدیہ کے زعماء اور خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے افراد اور پھر عورتوں اور احمدی جماعت کے مقامات مقدسہ کے متعلق حملہ کی تحریکیں وضاحنا یا کنایہ اور اشارہ متواتر ہوتی چلی آ رہی ہیں، ایسی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں کہ ہم اس سوال کو کسی طرح بھی نظر انداز نہیں کر سکتے۔جس شخص کے دل پر پڑتی ہے وہی جانتا ہے کہ اس کی کیا حالت ہے گورنمنٹ ہمارے احساسات اور جذبات کو نہیں سمجھ سکتی اور وہ معذور ہے اس بات سے کہ ہمارے جذبات و احساسات کو سمجھے۔جس شخص کا اکلوتا بچہ مر جاتا ہے اس کے گھر میں نالہ وفغاں سے جو کہرام برپا ہوتا ہے اس کو وہ لوگ نہیں سمجھ سکتے جو اس کے پڑوس میں رہتے اور دیوار با دیوار مکان رکھتے ہیں مگر ان کے گھر اس دن بچہ پیدا ہوا ہوتا ہے۔جس شخص کے گھر بچہ پیدا ہو وہ خوشی سے پھولا نہیں سما تا اور اس گھر کے چھوٹے بڑے افراد شاداں و فرحاں ہوتے ہیں لیکن جس گھر میں موت کا واقعہ ہو جائے اس کے احساسات بالکل جدا گانہ ہوتے ہیں۔اس حملہ سے احرار خوش ہیں کہ ان میں سے ایک نے جرات دکھائی اور وہ وار کرنے میں کامیاب ہو گیا۔گو اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اسے