خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 36

خطبات محمود ۳۶ سال ۱۹۳۵ء شعبے کی طرف اپنی نگاہ دوڑاتا اور ہر شعبے سے اپنے لئے فوائد اخذ کرتا ہے۔اسی لئے صوفیاء کرام نے انسان کو عالم صغیر کہا ہے اور گو ظاہری الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہرانسان کو عالم صغیر کہا مگر در حقیت ان کی انسان سے مراد انسان کامل ہے۔جس طرح ایک انچ کا شیشہ بھی اگر ایک وسیع باغ کے سامنے رکھ دیا جائے۔تو اس باغ کے تمام پودے نہایت چھوٹے پیمانہ پر شیشے میں نمایاں ہو جاتے ہیں اور جس طرح سبزہ زار کو ظاہری طور پر دیکھ کر انسان لطف اندوز ہوتا ہے اسی طرح شیشہ میں دیکھ کر لطف اٹھا سکتا ہے۔بالکل اسی طرح ایک مؤمن کی نگاہ تمام دنیا پر وسیع ہوتی ہے اس کا دماغ روشن اس کی عقل تیز اس کے حوصلے بلند، اس کی امنگیں شاندار اور اس کی خیال آرائیاں بہت اونچی ہوتی ہیں مگر مجھے نہایت ہی افسوس سے معلوم ہوا کہ جامعہ احمدیہ میں جو طلباء تعلیم پاتے ہیں انہیں کنوؤں کے مینڈکوں کی طرح رکھا گیا ہے۔ان میں کوئی وسعت خیال نہ تھی ، ان میں کوئی شاندار امنگیں نہ تھیں اور ان میں کوئی روشن دماغی نہ تھی میں نے گرید گرید کر ان کے دماغ میں داخل ہونا چاہا مگر مجھے چاروں طرف سے ان کے دماغ کا رستہ بند نظر آیا اور مجھے معلوم ہوا کہ سوائے اس کے کہ انہیں کہا جاتا ہے کہ وفات مسیح کی یہ یہ آیتیں رٹ لو یا نبوت کے مسئلہ کی یہ دلیلیں یاد کر لو، انہیں اور کوئی بات نہیں سکھائی جاتی۔جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارا کام اتنا ہی ہے کہ کچھ لوگ خرابی کریں اور ہم اسے مٹا دیا کریں گویا خدا کے پاس نکو ذباللہ تعمیری کام کوئی نہیں اگر ہے تو تخریبی کام ہی ہے۔اور پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر چند مولوی یہ خیال نہ گھڑ لیتے کہ رسول کریم ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے یا چند مولوی یہ خیال نہ پھیلا دیتے کہ مسیح ناصری آسمان پر زندہ موجود ہیں تو نہ مسیح موعود کی ضرورت تھی اور نہ سلسلہ احمدیہ کے قیام کی۔گویا ہماری جماعت صرف چند مولویوں کے ڈھکوسلوں کو دور کر نے کے لئے دنیا میں قائم ہوئی ہے۔میں نہیں سمجھ سکتا اس سے زیادہ ذلیل، اس سے زیادہ ادنی ، اس سے زیادہ رُسوا کن اور اس سے زیادہ کمینہ خیال بھی دنیا میں کوئی اور ہو سکتا ہے۔پس یہ عالم ہیں جنہیں جامعہ تیار کر رہا ہے اور یہ مبلغ ہیں جنہیں احمدیت کی تبلیغ کے لئے تعلیم دی جارہی ہے۔حالانکہ یہ ویسے ہی مسجد کے ملنٹے ہیں جن کو مٹانے کے لئے یہ سلسلہ قائم ہوا ہے۔میں نے عام طور پر لڑکوں سے سوال کر کے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ کثرت سے طالب علم ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اخبار کو پڑھا ہی نہیں۔کیا دنیا میں کبھی کوئی ڈاکٹر کام کر سکتا ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ مرضیں کون کون سی ہوتی ہیں۔میں نے الله