خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 35

خطبات محمود ۳۵ سال ۱۹۳۵ء اپنے اندر وہ چیز پیدا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو دنیا میں زندگی کی روح پھونکنے والی ہو۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو تو جہ دلاتا ہوں کہ وہ اس جسمانی قربانی کی اہمیت کو محسوس کریں اور یہ پہلا قدم ہے جس کے اٹھانے کا ان سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ورنہ اصل قدم تو یہی ہے کہ ہر وقت ان کے ذہن میں یہ بات رہے کہ ان کی جان ان کی نہیں بلکہ خدا کے قائم کردہ سلسلہ کی ہے اور یہ کہ وہ بزدل نہیں بلکہ بہادر ہیں۔جو لوگ بہادر ہوں ان سے لوگ ہمیشہ ڈرا کرتے ہیں۔ہمارے صوبہ میں کبھی کوئی پٹھان آ جائے اور اس کا کسی سے جھگڑا ہو جائے تو زمیندار اسے دیکھ کر جھٹ کہنے لگ جاتا ہے کہ پٹھان ہے جانے بھی دو کہیں خون نہ کر دے۔حالانکہ ہمارے بعض پنجابی ایسے ایسے مضبوط ہوتے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی پٹھان کو پکڑلے تو اسے ملنے نہ دے مگر اس کا رُعب ہی ایسا ہوتا ہے کہ پنجابی کہنے لگ جاتے ہیں خان صاحب آگئے اور ان کی ساری شیخیاں کا فور ہو جاتی ہیں۔پس جو قوم مرنے کے لئے تیار ہو اس سے ہر قوم ڈرا کرتی ہے۔اسی طرح ہم بھی اگر اپنی جانیں دینے پر آمادہ ہو جائیں تو لوگ ہم سے بھی ڈرنے لگ جائیں گے مگر وہ ڈر خوف والا نہیں ہو گا بلکہ محبت والا ہو گا۔ہم عمارتوں کو اس لئے نہیں گرائیں گے کہ ان کے باغوں کو ویران اور ان کے محلات کو کھنڈر کر دیں بلکہ ہم پاخانوں کو گرا کر انہیں قلعے بنائیں گے اسی طرح کاغذوں کو جلائیں گے مگر اس طرح نہیں کہ دیا سلائی سے انہیں جلا دیا بلکہ ان کی گندی عبارتیں مٹا کر ان پر پاکیزہ عبارتیں لکھیں گے۔پس ہمارے اصول تخر یہی نہیں بلکہ تعمیری ہوں گے کیونکہ جو قومیں تباہی کے اصول دنیا میں رائج کیا کرتی ہیں وہ خود بھی تباہ ہوتی ہیں ان کے اصول بھی ناکارہ جاتے ہیں۔محبت ہی ہے جو آخر دنیا کو فتح کرتی اور عالمگیر مؤاخات کا سلسلہ قائم کر دیتی ہے۔ہمارے نوجوانوں میں سے بعض نے اپنی زندگیاں وقف کی ہوئی ہیں اور میں آج کل ان کا امتحان بھی لے رہا ہوں۔اس امتحان لینے سے جہاں مجھے یہ معلوم ہوا کہ ان نو جوانوں میں اخلاص اور جرات ہے ، وہاں مجھے یہ بات بھی نہایت افسوس اور رنج سے معلوم ہوئی کہ ان کی تربیت اس رنگ میں نہیں ہوئی جس رنگ میں اسلام لوگوں کی تربیت کرنا چاہتا ہے۔اسلام مؤمن کے دماغ میں ایک وسعت پیدا کر دیتا ہے اتنی بڑی وسعت کے ہر مؤمن اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ سمجھتا ہے وہ کسی ایک صوبہ یا ایک ملک یا ایک براعظم کا نہیں بلکہ ساری دنیا کا اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہے اور دنیا کے ہر