خطبات محمود (جلد 16) — Page 37
خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۳۵ء تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہے آپ راتوں کو بھی کام کرتے اور دن کو بھی کام کرتے اور اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے۔اسی تحریک کے دوران میں خود اکتوبر سے لے کر آج تک بارہ بجے سے پہلے کبھی نہیں سویا اور اخبار کا مطالعہ کرنا بھی نہیں چھوڑا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو میں نے اس طرح دیکھا ہے کہ جب ہم سوتے اس وقت بھی آپ جاگ رہے ہوتے اور جب ہم جاگتے تو اس وقت بھی آپ کام کر رہے ہوتے۔جب انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے تو وہ دنیا میں کام کیا کر سکتے ہیں۔میں نے جس سے بھی سوال کیا۔معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا اور جب بھی میں نے ان کی امنگ پوچھی تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تبلیغ کریں گے۔اور جب سوال کیا کہ کس طرح تبلیغ کرو گے تو یہ جواب دیا کہ جس طرح بھی ہوگا تبلیغ کریں گے۔یہ الفاظ کہنے والوں کی ہمت تو بتاتے ہیں مگر عقل تو نہیں بتاتے۔الفاظ سے یہ تو ظاہر ہوتا ہے کہ کہنے والا ہمت رکھتا ہے مگر یہ بھی ظاہر ہو جاتا ہے کہ کہنے والے میں عقل نہیں اور نہ وسعت خیال ہے۔جس طرح ہو گا تو سؤر کیا کرتا ہے۔اگر سؤر کی زبان ہوتی اور اس سے پوچھا جا تا کہ تو کس طرح حملہ کرے گا تو وہ یہی کہتا کہ جس طرح ہوگا کروں گا۔بس سؤر کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ سیدھا چل پڑتا ہے آگے نیزہ لے کر بیٹھو تو وہ نیزہ پر حملہ کر دے گا ، بندوق لے کر بیٹھو تو بندوق کی گولی کی طرف دوڑتا چلا آئے گا۔پس یہ تو سؤروں والا حملہ ہے کہ سیدھے چلے گئے اور عواقب کا کوئی خیال نہ کیا حالانکہ دل میں ارادے یہ ہونے چاہئیں کہ ہم نے دنیا میں کوئی نیک اور مفید تغیر کرنا ہے۔مگر اس قسم کی کوئی امنگ میں نے نو جوانوں میں نہیں دیکھی اور اسی وجہ سے جتنے اہم اور ضروری کام ہیں وہ اس تبلیغی شعبہ سے پوشیدہ ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جماعت ترقی نہیں کرتی۔حالانکہ مبلغ کا کام یہ ہے کہ وہ دنیا میں ایک آگ لگا دے۔جہاں جائے وہاں دیا سلائی لگائے اور آگے چلا جائے۔اگر مبلغ ایک جنگل کو صاف کرنے بیٹھے تو وہ اور اس کی نسلیں بھی ہزار سال میں ایک جنگل کو صاف نہیں کر سکتیں لیکن اگر وہ سوکھی لکڑیوں اور پتوں وغیرہ کو اکٹھا کر کے دیا سلائی لگاتا چلا جائے تو چند دنوں میں ہی تمام جنگل راکھ کا ڈھیر ہو جائے گا۔پس مجھے نہایت ہی افسوس سے معلوم ہوا کہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کی تعلیم نہایت ہی ناقص اور نہایت ہی ردی اور نہایت ہی ناپسندیدہ حالت میں ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ طالب علموں میں ایمان اور اخلاص نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے۔چنانچہ ایک طالب علم سے جب میں نے