خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 398

خطبات محمود ۳۹۸ سال ۱۹۳۵ء الله کا نظارہ دکھا کر بتایا گیا ہے کہ نادان دشمن لاکھ جھک مارے، کوثر کا دیکھنا اور رسول کریم ﷺ کے ہاتھوں اس کے زندگی بخش جام کا پینا تو ہم نے تیرے لئے مقدر کر دیا ہے کیونکہ محمد ﷺ کا تو ہی سامنبع ہے پھر وہ چیز جو مجھ کو دی گئی در حقیقت جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے تم کو بھی دی گئی ہے۔پس مبارک ہو تمہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے جنت مقدر کر دی ، مبارک ہو تمہیں کہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے کوثر کا انعام مقدر کر دیا ، آج تم تھوڑے ہو لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ وہ تمہیں بڑھائے گا یہاں تک کہ تم ساری دنیا میں پھیل جاؤ گے، آج تمہیں کہا جاتا ہے کہ تم رسول کریم ﷺ کی تک کرنے والے ہو مگر خدا یہ بتاتا ہے کہ محمد ﷺ کوثر کے جام بھر بھر کر تم کو پلائیں گے اور تم بھی اس میں حصہ دار ہو گے۔اس کے ساتھ ہی یاد رکھو قرآن کریم میں کوثر کے انعام کا جہاں وعدہ دیا گیا ہے وہاں یہ بھی کہا گیا ہے۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ یعنی جسے کوثر ملے اسے خاص طور پر دعائیں بھی کرنی چاہئیں اور خاص طور پر قربانیوں کیلئے بھی تیار رہنا چاہئے ، پس قربانیاں کرو اپنے نفوس کی اور قربانیاں کرو اپنی عزت و آبرو کی۔تمہاری غیرت کا مظاہرہ تمہارے ہاتھوں سے نہیں ہونا چاہئے بلکہ ان آہوں سے ہونا چاہئے جو دلوں سے نکلتی اور خدا کے عرش کو ہلا دیتی ہیں۔اگر تم اپنے ہاتھ سے بدلہ لو بھی تو آخر تمہارے ہاتھوں میں کتنی طاقت ہے۔اگر یہ سچ ہے کہ بعض حکام احراریوں سے ملے ہوئے ہیں تو سوائے اس کے کہ تم ہاتھ اٹھا کر اور زیادہ مصیبت میں مبتلاء ہو جاؤ اس کا اور کیا فائدہ ہو گا۔بے شک اس سے تمہیں اپنا جوش نکالنے کا موقع مل جائے گا مگر سلسلہ اور احمدیت کو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔مؤمن کو تو وہ کرنا چاہئے جس سے دین کو فائدہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ لودھیا نہ میں کہیں جا رہے تھے کہ حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور جو حضرت خلیفہ اول کے خسر اور پیر منظور محمد صاحب اور پیر افتخار احمد صاحب کے والد تھے آپ کے ساتھ تھے وہ رتر چھتر والوں کے مرید تھے اور انہوں نے بارہ سال ان کی خدمت کر کے خرقہ خلافت حاصل کیا تھا۔راستہ میں باتیں ہونے لگیں تو حضرت منشی احمد جان صاحب فرمانے لگے کہ رتر چھتر والوں کی خدمت کر کے مجھے سب سے بڑا انعام یہ ملا ہے ایک آدمی پیچھے آرہا تھا اس کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کہ اگر میں اس پر تو جہ ڈالوں تو یہ و ہیں تڑپ کر گر جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ جب آپ خاص طور پر کوئی بات فرمانا چاہتے تو چلتے چلتے ٹھہر جاتے اور آہستہ آہستہ چھڑی کی نوک سے