خطبات محمود (جلد 16) — Page 399
خطبات محمود ۳۹۹ سال ۱۹۳۵ء زمین پر نشان کرتے چلے جاتے۔آپ یہ بات سنتے ہی ٹھہر گئے اور زمین پر چھڑی سے نشان کرتے ہوئے بولے اچھا میاں صاحب ! اس سے آپ کو اور اس کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟ کیونکہ حضرت منشی احمد جان صاحب بڑے اہل اللہ اور خدا رسیدہ انسان تھے اس لئے انہوں نے اسی وقت کہا کہ میں اس کام سے تو بہ کرتا ہوں۔آئندہ مسمریزم کو کبھی مذہب کا جزو نہیں سمجھوں گا۔تو دیکھو خدا تعالیٰ کے احکام اور حکومت کے قوانین کو تو ڑ کر کوئی بات کرنی اور پھر ایسی بات کرنی کہ جس کا کوئی بھی فائدہ نہ ہو کوئی عظمندی نہیں۔کسی نے کہا ہے۔خدا ہی ملا : وصالِ صنم نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے اس طریق پر کام کرنے سے نہ خدا راضی ہوگا اور نہ سلسلہ کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔پس اپنے جوشوں کو دباؤ اور اپنے جذبات کو قابو میں رکھو۔تم سے کم مجھ میں جوش نہیں اور نہ ان میں کچھ کم جوش ہے جو میری ہدایات کے مطابق صبر سے کام لے رہے ہیں لیکن جہاں ایک طرف ان منافقین قادیان کی طرح ہماری غیرت مُردہ نہیں ہو گئی جو جا جا کر دشمنوں کے بوٹ چاہتے ہیں۔وہاں شریعت اور قانون کی حدود سے بھی ہم تجاوز نہیں کر سکتے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے صبر کی توفیق دی ہے اور ہمیں توفیق دی ہے کہ ہم بجائے انسانی علاج کے خدا تعالیٰ سے علاج طلب کریں۔پس آج جبکہ ایک سرکاری افسر نے ہم پر یہ الزام لگایا ہے کہ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم خدا کے حضور جھکیں اور اس سے کہیں کہ اے خدا! اب تو اپنی ایسی قدرت دکھا کہ گورنمنٹ کو ماننا پڑے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیتے اور امن میں رہتے ہوئے بھی ان کا زندہ خدا ان کے لئے آسمان سے بڑے بڑے نشانات دکھا سکتا ہے۔پس جب تک آسمان سے کوئی ایسا نشان ظاہر نہ ہو۔جب تک دنیا کو یہ معلوم نہ ہو کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اور جب تک آسمانی نشانات کے ذریعہ یہ ظاہر نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے بندے ظاہری تدابیر اختیار نہیں کیا کرتے بلکہ خدا خود ان کے لئے تدبیر میں کیا کرتا ہے اُس وقت تک ہمارا ہاتھ اُٹھا نا خدا تعالیٰ کے نشانات کو مشتبہ کرنا ہے۔ہماری حالت تو اس وقت ایسی ہے کہ ہم جو گناہ نہیں کرتے وہ بھی ہماری طرف منسوب کر دیئے جاتے ہیں۔پھر اگر کوئی ہم میں سے اس قسم کی حرکت کر بیٹھے تو کس قدر ہم پر الزام آ سکتا ہے اور گو انفرادی واقعات کے لحاظ سے جماعت زیر الزام نہیں آ