خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 397

خطبات محمود ۳۹۷ سال ۱۹۳۵ء مظالم ہونے کے با وجو د احمد یہ جماعت نے اس صبر سے کام لیا جس صبر کا نمونہ صرف انبیاء کی جماعتیں ہی دکھا سکتی ہیں۔وہ دن ہماری فتح کا دن ہوگا اور اُس دن فخر سے ہم اپنی گردنیں اونچی کر سکیں گے، اُس دن دنیا تسلیم کرے گی ہمارے اخلاق کی برتری کو ، اور دنیا تسلیم کرے گی کہ سوائے خدا تعالیٰ کے ماً مور کی جماعت کے اور کوئی جماعت اس قسم کا نمونہ نہیں دکھا سکتی۔پس یاد رکھو کہ ہماری قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔میں آسمان پر ایک نیک تغیر پاتا ہوں اور میں خدا تعالیٰ کی طرف سے محبت کا دریا اُمڈتا ہوا دیکھتا ہوں۔ابھی تین دن کی بات ہے میں صبح کی نماز پڑھ کر لیٹا تو مجھے ایک الہام ہو ا جس کے یہ الفاظ تھے۔مبارک ہے وہ خدا جس نے مجھے کوثر دکھایا اور اسی طرح جنت کے بعض اور مقام بھی میں اسی وقت دل میں کہتا ہوں کہ مبارک کا لفظ انسانوں کے متعلق آتا ہے۔مگر اسی وقت دل میں آیا کہ اس جگہ مبارک تبارک کی جگہ استعمال ہوا ہے اس الہام کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے میری روح کو لے جا کر کوثر اور بعض دوسرے اعلیٰ مقامات جنت دکھائے ہیں اور واپسی پر اس لطف واکرام پر حیران ہو کر میں اوپر کے الفاظ کہتا ہوں۔غرض رویا میں خدا تعالیٰ نے مجھے کوثر کے مقام تک پہنچایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر ہماری نصرت و تائید کے سامان ہو رہے ہیں۔کوثر تو مرنے کے بعد ملتا ہے اور اگر دوسرے کو لائف ساتھ نہ ہوتے تو میں اس کی تعبیر یہ کرتا کہ یہ میرے نیک انجام کی طرف اشارہ ہے لیکن رؤیا کے باقی حصے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل کی امید دلاتے ہیں اور جماعت کی ترقیات کی اس میں خبر دی گئی ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف فرما تا ہے کہ مؤمنوں کو اس دنیا میں بھی جنت ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔پس جوں جوں نفس کشی کرو گے، جوں جوں امن پسندی کا نمونہ دکھاؤ گے اور بجائے انسانوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرو گے اُسی قدر زیادہ اللہ تعالیٰ تمہاری آسائش کے لئے بہتر سے بہتر سامان مہیا کرے گا۔تمہیں جنت دے گا جس میں تمہیں کوئی دُکھ نہ ہو گا اور تمہیں ایسی کثرت دے گا جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اس رویا میں کوثر کا نظارہ اس لئے بھی دکھایا گیا ہے کہ دشمن کہتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرتے ہیں۔چونکہ کوثر در اصل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہے اور کوثر کی نعمتیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہی مل سکتی ہیں اس لئے کوثر کے انعام ملنے