خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 290

خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۵ء لیں کہ تمہارے کیا عقائد ہیں لیکن سیاسیات میں ان امور کا کیا تعلق کہ تم ہمیں کا فر سمجھتے ہو یا نہیں۔پس یہ سوال پیدا ہی ان کی وجہ سے ہوا ہے ورنہ ہمیں یہ سوال اٹھانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ہماری طرف سے تو شروع میں جب یہ سوال اٹھا خواجہ کمال الدین صاحب کے لیکچروں اور مضامین کی وجہ سے اٹھایا گیا ور نہ ہمیں اس سوال کے اٹھانے کی کیا ضرورت تھی۔اب غیر مبائعین کو کبھی کبھی یہ سمجھ کر کہ یہ سوال پیدا کر دینے سے انہیں کامیابی ہوگی اور لوگ ہم سے متنفر ہو جائیں گے ، گد گدی سی اٹھتی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں جب ان امور پر بحث ہو گی تو لوگ ان سے ناراض ہو جائیں گے مگر پھر بھی بیعت کرنے کے لئے جب لوگ آتے ہیں ہمارے پاس ہی آتے ہیں ان کے پاس نہیں جاتے۔ان پر تو رسول کریم ﷺ کا یہ فقرہ بالکل صادق آتا ہے کہ لَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ تو اپنے اندازے سے نہیں بڑھے گا۔وہ اپنی ساری کوششیں صرف کرتے ہیں مگر ان کی ساری کوششوں کا نتیجہ ان کے حق میں نہیں بلکہ ہمارے حق میں مفید ثابت ہوتا ہے۔یہی احرار کا حال ہے جس دن لوگ یہ سمجھیں گے کہ کفر و اسلام کا سوال پیدا کرنے والے کون ہیں اور وہ اس امر کو سمجھ جائیں گے کہ احمدیوں نے یہ سوال نہیں اٹھایا بلکہ احرار نے اٹھایا ہے احمدی اسی وقت یہ جواب دیتے ہیں جب کوئی ان کے گھر پر پہنچ کر ان سے دریافت کرتا ہے تو وہ حقیقت حال سے متاثر ہو کر احراریوں کے پرو پیگنڈا کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ جائیں گے لیکن میں پھر ایک دفعہ اعلان کر دیتا ہوں کہ ہم کفر کے وہ معنی نہیں سمجھتے جو وہ سمجھے بیٹھے ہیں ہم کا فر جہنمی کسی کو نہیں کہتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ ہر کا فر دوزخ میں جائے گا ہمارے نزدیک کفر کا اطلاق ایک خاص حد کے بعد ہوتا ہے۔جب کوئی شخص اسلام کو اپنا مذ ہب قرار دیتا اور قرآن مجید کے احکام پر عمل کرنے کو اپنا دستور العمل سمجھتا ہے ، اس وقت مسلمان کہلانے کا مستحق ہو جاتا ہے اور حقیقی معنوں میں مسلمان وہ اس وقت ہوتا ہے جب کامل طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل کرتا ہے لیکن اگر وہ اسلام کے اصول میں سے کسی اصل کا انکار کر دیتا ہے تو گو وہ مسلمان کہلاتا ہے مگر حقیقی معنوں میں وہ مسلم نہیں رہتا۔پس کافر کے ہم ہرگز یہ معنی نہیں لیتے کہ ایسا شخص محمد ﷺ کا منکر ہے۔جو شخص کہتا ہو کہ میں محمد ﷺ کو مانتا ہوں اسے کون کہہ سکتا ہے کہ تو انہیں نہیں مانتا۔یا کافر کے ہم ہرگز یہ معنی نہیں لیتے کہ ایسا شخص خدا تعالیٰ کا منکر ہوتا ہے جب کوئی شخص کہتا ہو کہ میں خدا تعالیٰ کو مانتا ہوں تو اسے کون کہ سکتا ہے کہ تو خدا تعالیٰ کو نہیں مانتا ہمارے نزدیک اسلام کے اصولوں میں سے کسی