خطبات محمود (جلد 16) — Page 289
خطبات محمود ۲۸۹ سال ۱۹۳۵ء ہمارے اخبارات میں بھی لکھا جاتا ہے کہ احراری کا فر ہیں۔ہم تو سمجھتے ہیں جو کسی کو بلا وجہ کا فر کہتا ہے وہ اس کی دل آزاری کرتا اور لڑائی مول لیتا ہے۔ہاں جب کوئی ہمیں مجبور کرے اور ہم سے پوچھے کہ تم ہمیں کیا سمجھتے ہو اس وقت ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہیں کا فر سمجھتے ہیں مگر جب وہ خود سوال کرتے اور ہم اس کا جواب دیتے ہیں تو وہ ہمارے جواب دینے پر بھی بُرا مناتے اور ہم سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں کہ ہمیں مسلمان کیوں نہیں سمجھتے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ایک سانولے رنگ والا آدمی ہمارے پاس آئے اور کہے بتاؤ میرا رنگ کیسا ہے لیکن جب ہم اسے کہیں کہ سانولا ، تو وہ ہم سے لڑائی شروع کر دے اور کہے کہ تم نے مجھے سانولا کیوں کہا ، گورا کیوں نہیں کہا۔پس ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے یا پھر ایسی ہی ہے جیسے تھوڑے ہی دن ہوئے ایک دوست نے مجھے واقعہ سنایا ، وہ فوج میں ڈاکٹر ہیں ، انہوں نے ذکر کیا کہ ان کا ایک میجر افسر تھا اس کی بیوی نے ان سے سوال کیا کہ تم بتاؤ میری عمر کتنی ہوگی۔انگریز عورتوں کی عادت ہے کہ اگر ان کی بڑی عمر بتائی جائے تو وہ بہت چڑتی ہیں اور بڑی عمر کو اپنی ہتک سمجھتی ہیں۔وہ افسر انگریز تو نہیں تھا بلکہ اینگلو انڈین تھا لیکن اس کی بیوی نے جب یہ سوال کیا تو وہ کہتے ہیں میں نے سمجھا یہ بڑا نازک سوال ہے کیونکہ میں نے جو عمر بھی بتائی ، اس پر اسے غصہ آئے گا اس لئے میں نے اسے کہا تم ابھی جوان ہو مجھ سے اپنی عمر کے متعلق کیا پوچھتی ہو لیکن وہ بضد ہو کر بیٹھ گئی کہ نہیں میری عمر بتاؤ۔یہ کہتے۔آخر میں نے دل میں سوچا کہ یہ میجر کی بیوی ہے ۳۶، ۳۷ سال سے کم عمر اس کی نہیں ہو سکتی لیکن میں نے دس سال عمر اور کم کر کے کہا۔آپ کی عمر ۲۷ سال کے قریب ہوگی۔یہ سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئی اور کہنے لگی تم مجھے بڑھیا سمجھتے ہو کیا میں اتنی عمر کی ہوگئی ہوں۔اب دس سال انہوں نے عمر میں سے کم کئے تو پھر بھی کام نہ چلا اور وہ ناراض ہوگئی۔یہی ان لوگوں کا حال ہے آپ ہی اصرار کرتے اور سوال کرتے ہیں کہ تم ہمیں کیا سمجھتے ہو اور جب جواب دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں تم نے ہمیں کا فرکہ دیا ہم نے تو بار بار دیکھا ہے کفر و اسلام کا مسئلہ چھیٹر نے میں یا غیر مبائعین کو مزا آتا ہے یا احراریوں کو حالانکہ تمدن اور معاشرت کا اس سے کیا تعلق کہ ہم تمہیں کیا سمجھتے ہیں اور تم ہمیں کیا سمجھتے ہو۔ہمیں تو یہ دیکھنا چاہئے کہ جس حد تک ہم آپس میں تعاون کر سکتے ہیں ، اس حد تک تعاون کریں اور عقائد کے سوال کو باہمی معاشرت کے وقت نہ چھیڑیں۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ جب کوئی ہم سے لڑکی کا رشتہ مانگنے کے لئے آئے یالڑکی کا رشتہ دینے آئے تو ہم اس سے پوچھ