خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 291

خطبات محمود ۲۹۱ سال ۱۹۳۵ء اصل کا انکار کفر ہے جس کے بغیر کوئی شخص حقیقی طور پر مسلمان نہیں کہلا سکتا۔ہمارا یہ عقیدہ ہر گز نہیں کہ کافر جہنمی ہوتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ ایک کافر ہو اور وہ جنتی ہو۔مثلا ممکن ہے وہ ناواقفیت کی حالت میں ساری عمر رہا ہو اور اس پر اتمام محبت نہ ہوئی ہو پس گو ہم ایسے شخص کے متعلق یہی کہیں گے کہ وہ کا فر ہے مگر خدا تعالیٰ اسے دوزخ میں نہیں ڈالے گا کیونکہ اسے حقیقی دین کا کچھ علم نہ تھا اور خدا ظالم نہیں کہ وہ بے قصور کو سزا دے۔پس جب بھی ہم کفر کا لفظ بولتے ہیں انہی معنوں میں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی کو خود کا فرنہیں کہتے سوائے اس کے کہ کوئی شخص ہمیں دق کرے اور پوچھے کہ تم مجھے کیا سمجھتے ہو۔اگر کفر کی وہ تعریف کی جائے جو غیر احمدی آج کل کرتے ہیں تو اس تعریف کے مطابق ہمارے نزدیک نہ مسلمانوں میں سے کوئی کافر ہے اور نہ ہندوؤں ، یہودیوں ، عیسائیوں اور دوسرے غیر مسلموں میں سے کیونکہ کوئی قوم ایسی نہیں جس کے ہر فرد کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہو کہ وہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ہندوؤں میں سے بھی کچھ لوگ جنت میں جائیں گے ، یہودیوں میں سے بھی کچھ لوگ جنت میں جائیں گے ،عیسائیوں میں سے بھی کچھ لوگ جنت میں جائیں گے اور سکھوں میں سے بھی کچھ لوگ جنت میں جائیں گے حتی کہ دہریوں میں سے بھی کچھ لوگ جنت میں چلے جائیں گے۔اگر کوئی دہریہ کسی ایسے ملک میں پیدا ہوا ہے جہاں حقیقی دین سے کوئی واقف نہیں یا مثلا وہ پہاڑوں میں رہتا ہے اور وہاں کوئی شخص ایسا نہیں جو خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور اسے خدا پر ایمان لانے کی نصیحت کر سکتا ہو لیکن وہ قانونِ قدرت کے تابع رہتا ہے لوگوں سے نیکی کرتا ہے ، بدیوں سے بچتا ہے اور دنیاوی امور میں کسی قسم کی تعدی اور ظلم سے کام نہیں لیتا تو یقیناً ایسا شخص دہر یہ ہونے کے باوجود جنت کا مستحق ہو جائے گا۔پھر میں کہتا ہوں اگر یہ شور جو اس وقت ہمارے سلسلہ کے خلاف مچایا جارہاہے واقعہ میں صحیح ہے تو چاہئے تھا اس کی بنیاد دیانتداری پر ہوتی مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کی بنیاد دیانتداری پر ہرگز نہیں۔پرسوں ہی اخبارات میں میں نے ایک اعلان دیکھا ہے جو سر مرزا ظفر علی صاحب کی طرف سے ہے اور جس میں وہ لکھتے ہیں کہ احمدی مسلمان نہیں ، حکومت نے یہ سمجھ لیا ہے کہ جماعت احمد یہ مسلمانوں کا ایک فرقہ ہے حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے ، اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے زائل شدہ اعتماد کو دوبارہ حاصل کرے تو احمدیوں کو جدا گانہ جماعت قرار دے دے اور انہیں مسلمانوں میں سے الگ کر