خطبات محمود (جلد 16) — Page 288
خطبات محمود ۲۸۸ سال ۱۹۳۵ء مگر کامل مسلم اسے نہیں سمجھا جا سکتا یہ تعریف ہے جو ہم کفر و اسلام کی کرتے ہیں اور پھر اس تعریف کی بناء پر ہم کبھی نہیں کہتے کہ ہر کا فردائی جہنمی ہوتا ہے ہم تو یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی اس قسم کے کافر نہیں سمجھتے بلکہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں جس قدر بھی کفار ہیں خواہ وہ یہودی ہیں یا عیسائی دہر یہ ہندو اور سکھ وغیرہ آخر خدا تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال ہوگا اور خدا تعالیٰ انہیں کہہ دے گا کہ جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ پس ان کے کفر اور ہمارے کفر میں بہت بڑا فرق ہے۔ان کا کفر تو ایسا ہے جیسے سرمے والائر مہ پیستا ہے۔وہ جب کسی کو کافر کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے اسے پیس کر رکھ دیں، کہتے ہیں کہ وہ جہنمی ہے اور ابدی دوزخ میں پڑے گا لیکن ہم دوسرے کو کا فرصرف اصطلاحی طور پر کہتے ہیں ورنہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کفر کی حالت میں مرے لیکن خدا تعالیٰ اسے کسی خوبی کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے اور کہے کہ اسے پتہ نہ تھا حقیقی دین کون سا ہے اور نہ حقیقی تعلیم اس کے پاس پہنچی۔اس کے مقابلہ میں بالکل ممکن ہے کہ ایک ایسا انسان جو بظاہر اسلام میں داخل ہے ،خدا تعالیٰ اسے اس پاداش میں جہنم میں ڈال دے کہ اس نے دین کی تعلیم پر عمل نہ کیا۔پس ایک ہندو، ایک عیسائی ، ایک یہودی، ایک دہریہ، ایک سکھ حتی کہ ایک غیر احمدی، کے متعلق بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کفر کی حالت میں مرے لیکن اللہ تعالیٰ کہے کہ اس کے لئے جہاں تک امکان تھا ، اس نے زہد اور تقویٰ پیدا کرنے کی کوشش کی ، اس نے نیکی اور دینداری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کی ، اسلام کی حقیقی تعلیم سننے کا اسے موقع میسر نہیں آیا پس اسے جنت میں داخل کیا جاتا ہے۔اسی طرح ہو سکتا ہے ایک احمدی کہلانے والا اگر وہ سلسلہ کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا تو دوزخ میں چلا جائے۔پس ہماری کفر کی اصطلاح ہی اور ہے اور ان کے کفر کی اصطلاح اور۔ہمارا کفر تو ان کے کفر کے مقابلہ میں ایسا ہی ہے جیسے سورج کے مقابل پر ذرہ ہو پس اس پر انہیں غصہ کیوں آتا ہے۔آجکل بڑے زور سے کہا جاتا ہے کہ احمدی ہمیں کا فر کہتے ہیں اگر وہ بچے ہیں تو ثابت کریں کہ پہلے ہم نے انہیں کا فر کہا ہو۔اگر وہ ذرا بھی غور کریں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ پہلے انہوں نے ہی ہمیں کا فر کہا ہم نے کا فرنہیں کہا گو اس رنگ میں بھی ان کے کفر اور ہمارے کفر میں بہت بڑا فرق ہے لیکن بہر حال ان کا اخلاقی فرض ہے کہ وہ دیکھیں پہلے انہوں نے ہمیں کا فر کہا اور ہم پر کفر کے فتوے لگائے یا ہم نے ان کو کافر کہا۔اب بھی ہمیں کس طرح بار بار ان کی طرف سے کافر کہا جاتا اور اخبارات میں لکھا جاتا ہے کہ احمدی کا فر ہیں۔کیا