خطبات محمود (جلد 16) — Page 221
خطبات محمود ۲۲۱ سال ۱۹۳۵ء شورش مت کہو اور اللہ تعالیٰ سے خوف کھاؤ کہ وہ تم پر بھی بادشاہ ہے خدا کو حاضر ناظر جان کر میں کہتا ہوں کہ اس کے سوا ہمارے کوئی ارادے نہیں ہیں ہم سب کے خیر خواہ ہیں۔ظلم اور مخالفت ایک حد تک ہی چل سکتی ہے۔ہم نے یہ باتیں بار بار کہی ہیں مگر وہ باز نہیں آتے اس لئے اب خدا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں مگر یہ پھر بھی نہیں کہتے کہ خدا ان کو تباہ کر دے بلکہ صرف یہ دعا کرتے ہیں کہ ان کے دلوں کی اصلاح کر دے اور انہیں ٹھیک کر دے۔اگر وہ سمجھانے کے باوجود نہ سمجھیں تو ان کے شر سے ہم اس کی پناہ چاہتے ہیں اور اگر وہ اصلاح کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔میں پھر کہتا ہوں کہ ہم ساری دنیا کے خیر خواہ ہیں لیکن پھر بھی اگر کوئی ہمیں دشمن سمجھتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ہم کسی کو اپنا دل چیر کر نہیں دکھا سکتے۔جب واقعات سب کے سامنے ہیں حکومت اگر چاہے تو آزاد کمیشن مقرر کر کے فیصلہ کر دے بلکہ ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی انگریز کو ہی جج مقرر کر لومگر ہمیں موقع دو کہ سارے حالات کو اس کے سامنے رکھیں ہمیں اس کا فیصلہ منظور ہو گا۔میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ دعاؤں میں لگ جاؤ اور دعاؤں میں وہ رنگ پیدا کر وجس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے۔قدیم روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو عذاب مقدر تھا وہ اس لئے ٹلا دیا گیا کہ ان کی قوم نے (جیسا کہ ان کی روایات سے پتہ چلتا ہے گو قرآن کریم میں ان تفصیلات کا ذکر نہیں ) جب عذاب کے آثار دیکھے تو سب عورتیں ، مرد ، بچے ، بوڑھے مویشیوں کو بھی ساتھ لے کر شہر سے باہر نکل گئے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے حتی کہ امراء نے بھی امیرانہ لباس اُتار کر ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے ، ماؤں نے بچوں کو دودھ دینا بند کر دیا ، جانوروں کو چارہ پانی سے محروم کر دیا گیا نتیجہ یہ ہوا کہ بچے بھو کے علیحدہ چنیں مار رہے تھے ، جانور علیحدہ بلبلا رہے تھے اور ایک کہرام مچ گیا۔تب خدا تعالیٰ نے کہا کہ گو ہم نے نبی سے عذاب کا وعدہ کیا ہو ا تھا مگر یہ نظارہ نہیں دیکھا جاتا اور میں ان پر رحم کرتا ہوں۔پس اگر اللہ تعالی نے حضرت یونس کے دشمنوں سے موعود عذاب کو ٹال دیا تھا تو اگر تم جو نبی کی قوم ہو اس کے آگے اسی طرح گڑ گڑاؤ اور تضرع کرو تو وہ فضل نہ کرے گا ؟ پس سب دعاؤں میں لگ جاؤ اور خصوصاً ہر جمعرات کی رات کو جس دن روزہ رکھنا ہے ، سب اُٹھیں خواہ انہوں نے روزہ نہ بھی رکھنا ہو ،عورتیں اور بچے بھی دعائیں کریں ، جو حائضہ عورتیں نماز نہ پڑھ سکتی ہوں وہ بھی اُٹھ کر دعائیں کریں، گریہ