خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 220

خطبات محمود ۲۲۰ سال ۱۹۳۵ء غرضیکہ آج ہر قوم ہماری مخالفت پر کمر بستہ ہے اور ذلت پہنچانا چاہتی ہے اور ہمارے لئے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ اپنے رب کے پاس جائیں اور اسی سے کہیں کہ اے خدا! ہم ذلیل کئے گئے ، ہمیں مسل دیا گیا ، کچل دیا گیا، ہمارے ساتھ سخت نا انصافی کی گئی ، ہمیں خواہ مخواہ تکالیف دی گئیں ، ہماری دل آزاری کی گئی ، تو ہین کی گئی اور ان مخالفوں کے مقابلہ کی ہم میں طاقت نہیں تو جو طاقت والا ہے خود اپنی طاقت دکھا۔اے تمام بادشاہوں کے بادشاہ! تو اپنی بادشاہت دیکھا۔اے مالک ! تو ہی اپنی ملکیت دکھا ان کے ہاتھ روک اور ہماری مدد کر۔کیا تم سمجھتے ہو کہ اگر خدا تعالیٰ کے پاس جا کر روؤ گے ، زاری کرو گے تو وہ تمہاری مدد نہیں کرے گا۔کیا ہم یونہی مظلوم ہو کر ظالم کہلاتے رہیں گے؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر یہ ہو تو دنیا سے خدا کا نام مٹ جائے خدا تعالیٰ غیور ہے، طاقتور ہے۔ہم نے دنیا میں ہر شخص سے عجز وانکسار کا برتاؤ کیا اپنے بھائیوں سے بھی ، غیر قوموں سے بھی اور حکمرانوں سے بھی کیا۔ہم نے بار بار کہا کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں ، خدا کی قسم ! ہم سب کے خیر خواہ ہیں مگر ہماری باتوں کو رڈ کر دیا گیا ، ہماری دوستی کو ٹھکرایا گیا ، ہمارے اطاعت کے دعووں سے جنسی کی گئی اور کہا گیا کہ یہ باغی ہیں۔ہم پہلے بھی حکومت کے مطیع رہے ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے اور حسب سابق سب کی خیر خواہی مد نظر رکھیں گے۔تلوار سے لڑائی ہمارے لئے مقدر نہیں اور جنگ کے لئے یہ سلسلہ پیدا ہی نہیں ہوا۔ہمیں جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس میں ہم اسی طرح کا میاب ہو سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں۔پس میں ہوشیار کرتا ہوں ان لوگوں کو جن کی طاقت، قوت اور بھلائی کے لئے ہم کھڑے ہیں کہ وہ ظلم اور بے انصافی کو چھوڑ دیں ، ہم محمد رسول اللہ علی کے نام پر جان دینے والے اور دین کے لئے قربانیاں کرنے والے ہیں۔پھر میں ہوشیار کرتا ہوں ہندوؤں اور سکھوں کو اور ان سے کہتا ہوں کہ خدا گواہ ہے ہم ان کے دشمن نہیں ہیں ، ہم اسلام کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اس لئے کہ اسی میں ہم ان کی نجات یقین کرتے ہیں ان کی تذلیل اور تو ہین ہمارے مد نظر نہیں بلکہ بھلائی مد نظر ہے، پھر حکومت سے کہتا ہوں کہ ہم حکومت کے خواہاں نہیں ہیں ہم خدمت کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ہم نے بار بار کہا ہے کہ ہم حکومت نہیں چاہتے ہم تو چو ہڑوں کے بھی خادم ہیں ہم پر بلا وجہ بدظنی نہ کی جائے ہمیں مت ستاؤ خواہ مخواہ ہم پر دفعہ ۱۴۴ نافذ نہ کرو، ہمارے خلاف الزامات کی تلاش میں مت لگو ، ہماری اطاعت کا نام بغاوت نہ رکھو ، ہماری فرمانبرداری کو