خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 219 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 219

خطبات محمود ۲۱۹ سال ۱۹۳۵ء تو وہ بھی ہمیں ہی دباتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ یہ نرم نرم ہڈیاں خوب چبائی جاسکتی ہیں۔غرضیکہ ہر ایک نظر ہم پر ہی پڑتی ہے ، ہر کوئی ہمیں تر نوالہ سمجھتا ہے ایسی صورت میں اگر اللہ تعالیٰ ہمیں تلوار دیدے تو یہ ثابت نہ ہو سکے گا کہ دین کی اشاعت دلائل سے ہوئی اور اسلام پر قدیم سے پڑنے والا اعتراض قائم کا قائم رہے گا اس لئے سب طاقت خدا کی ذات میں ہے ہماری توپ، ہماری تلوار ، ہماری بندوق خدا ہے اور اس کی مدد کے ساتھ ہم وہ کام کر سکتے ہیں جو بندوق توپ اور تلوار سے نہیں ہوسکتا۔میں نے کئی دفعہ ایک بزرگ کا قصہ سنایا ہے ان کے ہمسایہ میں بادشاہ کا کوئی درباری رہتا تھا جس کے ہاں ہر وقت رقص وسرود اور باجہ گاجہ کا شغل رہتا تھا گندے اشعار پڑھے جاتے تھے جن سے عورتوں کو تکلیف ہوتی تھی ، ان کی اپنی عبادت میں بھی خلل آتا اور لوگوں نے بھی آ کر شکایات کیں انہوں نے اس شخص کو جا کر سمجھایا مگر وہ حکومت کے نشہ میں تھا اس نے کہا مجھے تم لوگوں کی کیا پر واہ ہے کون ہے جو ہمارے سامنے بول سکے، ہم تمہاری بات نہیں سن سکتے۔اس بزرگ نے کہا کہ پھر ہم تمہارا مقابلہ کریں گے۔اُس نے اگلے روز دروازہ پر سپاہی لا کر کھڑے کر دیئے جیسے ہم پر دفعہ ۱۴۴ لگا دی گئی ہے اور کہا کہ تم کہتے تھے روک دیں گے اب شاہی فوج آگئی ہے ، اب روک کر دکھاؤ۔اُس بزرگ نے کہا کہ بے شک ہم نے کہا تھا مقابلہ کریں گے مگر یہ مقابلہ مادی طاقت سے نہیں بلکہ رات کے تیروں سے ہو گا اور جب میں نے کہا تھا کہ روک دیں گے تو یہ مطلب نہیں تھا کہ ڈنڈے کے زور سے روک دیں گے بلکہ مطلب یہ تھا کہ خدا سے اپیل کریں گے ہماری بھی مثال یہی ہے آج حکومت نے بھی ہمیں ذلیل کرنا چاہا ہے اور وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کے نام میں ہمارے شریک ہیں وہ بھی ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔ان کے نزدیک ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم دنیا پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا تھا اور ہمارے وہ بھائی کہتے ہیں کہ یہ کہہ کر تم دین کو کمزور کرتے ہولیکن ہم ان سے کہتے ہیں کہ تم اسلام اپنی گندی زندگیوں کا نام رکھتے ہو اور ہمارے نزدیک محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کا نام اسلام ہے تم جس اسلام کو زندہ رکھنا چاہتے ہو ایسے اسلام اگر ہزار بھی مر جائیں تو ہم کو کوئی پرواہ نہیں۔ہمارے مد نظر یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ زندہ ہوں اور وہ اسلام زندہ ہو جسے آپ دنیا میں لائے۔