خطبات محمود (جلد 16) — Page 173
خطبات محمود ۱۷۳ سال ۱۹۳۵ء اور نہ پیٹھ پر قرآن لا ددینا کوئی کام دے سکتا ہے بلکہ جب سر میں قرآن ہو اور دل میں قرآن ہو تب انسان ان ثمرات کو پا سکتا ہے جو قرآن مجید پر عمل کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہوتے ہیں۔اس مثال کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متوجہ کرتا ہے کہ تم سے پہلے ایک کتاب یعنی تو رات دنیا میں نازل ہوئی اور لوگوں کے لئے اسے راہنما قرار دیا گیا مگر اس کے ماننے والوں نے کچھ عرصہ کے بعد اس کتاب کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا ، زندگیاں اس کے مطابق نہ بنائیں اور نہ اس کے اوامر پر کار بند رہے۔اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ اللہ تعالیٰ کے حضور ان کی اتنی قیمت بھی نہ رہی جتنی ایک گدھے کی اس کے مالک کے نزدیک ہوتی ہے ان پر عذاب پر عذاب آئے ، تکلیفوں پر تکلیفیں آئیں اور مصائب پر مصائب آئے بجائے اس کے کہ خدا تعالیٰ ان کی مدد کرتا ، نصرت کرتا اور ان کے دشمنوں کو خائب و خاسر اور ناکام و نامراد رکھتا جب لوگ ان کے دشمن ہوئے تو خدا کا عذاب بھی ان پر نازل ہونا شروع ہو گیا۔جس طرح آسمان سے جب پانی برستا ہے تو زمین سے بھی چشمے پھوٹنے لگتے ہیں اس کے بالکل اُلٹ زمین سے جب ان پر عذاب نازل ہونا شروع ہوا تو آسمان نے بھی ان پر آگ برسانی شروع کر دی پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اِس واقعہ سے عبرت دلاتا اور انہیں نصیحت کرتا ہے کہ تم ایسے مت بننا۔جس قوم کے متعلق یہ کہا جائے کہ اس کی مثال گدھوں کی سی ہے ضرور ہے کہ وہ اس بات پر بُرا منائے اور کہے کہ ہمیں گالی دی گئی ہے اور یقیناً جس وقت یہ آیت یہود کی مجالس میں پڑھی جاتی ہو گی۔مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْرَةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِيَحْمِلُ اَسْفَارًال کوه لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے تو رات دی مگر انہوں نے اس پر عمل نہ کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس نے کتابیں اٹھائی ہوئی ہوں ان پر یہ عبارت سخت شاق گزرتی ہوگی اور یقیناً وہ اس پر ناراض ہوتے ہوں گے اور کہتے ہوں گے کہ ہمیں کیوں گدھا کہا گیا۔لیکن اگر ٹھنڈے دل سے قرآن کریم کے اس دعوے پر غور کیا جائے اور یہودی ، عیسائی یا مسلمان کا سوال درمیان سے اُٹھا دیا جائے تو کون سا شخص اس مضمون کی صداقت سے انکار کر سکتا ہے۔تم عیسائیوں سے پوچھ دیکھو کہ اگر ایک عیسائی انجیل پر عمل نہ کرے تو اسے کیا کہا جائے اور گوانجیل ہمارے نزدیک کوئی شرعی کتاب نہیں لیکن عیسائیوں کے نزدیک وہ ایک کامل ہدایت نامہ ہے اور عمل کے لحاظ سے ہر عیسائی مجبور ہے کہ وہ انجیل کی ہدایات کو اپنے مد نظر رکھے اور اپنے اعمال کی انجیل پر بنیا د ر کھے۔پس اگر ایک عیسائی سے پوچھا