خطبات محمود (جلد 16) — Page 172
خطبات محمود ۱۷۲ ۱۰ سال ۱۹۳۵ء اظہارِ حقیقت اور گالی میں فرق (فرموده ۸ / مارچ ۳۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ جمعہ کی درج ذیل آیات تلاوت فرمائیں۔قُلْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ هَادُوا اِنْ زَعَمْتُمُ أَنَّكُمْ أَوْلِيَاءُ لِلَّهِ مِنْ دُون النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِنْ كُنتُمْ صَدِقِينَ وَلَا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِيْنَ قُلْ إِنَّ الْمَوْتَ الَّذِي تَفِرُّونَ مِنْهُ فَإِنَّه مُلقِيْكُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنتُم تَعْمَلُونَ اس کے بعد فرمایا :- پچھلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ محض خدا تعالیٰ کی کتاب کے حامل ہونے سے کچھ نہیں بنتا اور جب تک اس کے مطابق اپنی زندگیاں بسر نہ کی جائیں اس وقت تک صرف اُس کتاب کو اٹھا لینا ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں۔جس طرح قرآن مجید کے بھرے ہوئے بکس ایک گدھے کی پیٹھ پر لاد دینے سے وہ زیادہ عقلمند نہیں ہو جاتا اور نہ تو رات اور انجیل کے لادنے سے وہ زیادہ عقلمند سمجھا جاسکتا ہے۔اسی طرح اگر ایک ان پڑھ اور جاہل آدمی جو قرآن مجید کے مطالب کو نہیں سمجھتا اور نہیں سمجھنا چاہتا ہیں، ہمیں یا چالیس قرآن مجید بھی اپنے سر پر اٹھالے تو کیا اُس کے دل میں معرفت کا دریا پھوٹ سکتا ہے؟ معرفت کا دریا اس کے دل میں پھوٹے گا اور وہی شخص روحانیت سے حصہ پائے گا جس کے دل میں قرآن ہوگا اور جس کے سر میں قرآن ہو ، سر پر قرآن اُٹھا نا کام نہیں دیتا