خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 174

خطبات محمود ۱۷۴ سال ۱۹۳۵ء جائے کہ جب کوئی عیسائی کہلا کر انجیل پر عمل نہیں کرتا انجیل اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے مگر اپنے دل میں نہیں رکھتا تو کیا اُس کی مثال اُس گدھے کی سی ہے یا نہیں جس پر کتا بیں لاد دی جائیں۔تو اگر اسے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ تم اُس پر طعن کر رہے ہو تو یقیناً وہ یہی کہے گا کہ یہ درست ہے۔اسی طرح اگر ایک مسلمان سے پوچھو کہ وہ شخص جو قرآن مجید پر ایمان لانے کا دعوی کرتا ہے مگر عملی لحاظ سے قرآن کو پس پشت ڈال رہا ہے ، منہ سے تو دعوے کرتا ہے کہ میں اسلام کا عاشق اور قرآن مجید کا متبع ہوں لیکن اس کے اعمال قرآن مجید کے خلاف ہیں تو بتا ؤاگر ایسے شخص نے اپنے ہاتھ یا سر پر قرآن اُٹھایا ہوا ہے تو کیا اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے یا نہیں جس پر کہتا ہیں لا دی گئی ہوں۔پس اگر اسے یہ خیال پیدا نہ ہو کہ تم اس کی ذات کی طرف اشارہ کر رہے ہو تو یقیناً وہ کہے گا کہ ہاں یہ درست ہے۔البتہ اگر اسے یہ وہم ہو جائے کہ تم اس پر اتمام حجت کرنی چاہتے ہو اور اس پر طعن کر رہے ہو تو پھر وہ لڑ پڑے گا اور کہے گا کہ تم نے مجھے گالی دی لیکن اگر ذاتیات کو درمیان میں نہ لایا جائے اور اصولی طور پر سوال کیا جائے تو خواہ کسی قوم کے فرد سے دریافت کر لیا جائے ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا کہ بے شک ایسا شخص اس گدھے کی طرح ہے جس نے کتابیں اُٹھائی ہوئی ہوں۔اسی طرح اگر یہودیوں سے پوچھا جائے تو وہ بھی یہی جواب دیں گے۔اگر ایک ہندو سے پوچھا جائے کہ ایک شخص ویدوں پر ایمان لانے کا دعوی کرتا ہے مگر نہ اپنے عقائد ویدوں کی تعلیم کے مطابق رکھتا ہے نہ اعمال ان کے مطابق رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو بتا ؤاگر اس کے سر پر یا اس کے ہاتھوں میں وید ہومگر اس کے دل میں ویدوں کی عظمت نہ ہو تو کیا اس کی مثال اس گدھے کی سی ہے یا نہیں جس پر کتابیں لا دی گئی ہوں۔تو وہ بھی یہی کہے گا ہاں واقع میں وہ گدھے کی مانند ہے اور اس پر وہ ہرگز برانہیں منائے گا۔برا لگنے کا سوال تب پیدا ہوتا ہے جب انسان یہ سمجھے کہ یہ میرے متعلق کہا جارہا ہے لیکن جب کسی بات کو ایک علمی سوال بنادیا جائے تو پھر کوئی شخص بُر انہیں منا سکتا۔فرض کرو کوئی شخص میرے پاس آئے اور کہے کہ اگر ایک شخص احمدی کہلاتا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابیں ہر وقت اُٹھائے پھرتا ہے لیکن ان کتابوں پر عمل نہیں کرتا تو کیا اس کی مثال گدھے کی سی ہے یا نہیں ؟ تو کیا تم سمجھتے ہو میں اس حقیقت سے انکار کر دوں گا۔یقیناً میں یہی جواب دوں گا کہ اگر کوئی احمدی ایسا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا اور صرف کتا میں اُٹھائے پھرتا ہے تو وہ اس گدھے کی مانند ہے جس پر کتابیں لا دی گئی