خطبات محمود (جلد 16) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۵ء عبد الکریم صاحب۔احمد یہ چوک میں سے ایک گندہ نالہ گزرا کرتا تھا اور اس پر ایک پھٹے پڑا رہتا تھا اب تو وہاں سڑک بن گئی اور نواب صاحب کے مکانات تعمیر ہو گئے ہیں۔انہوں نے وہاں بیٹھ جانا اور ہاتھ اُٹھا کر بڑے زور زور سے یہ دعائیں کرنا کہ خدایا! اپنے مسیح کو منافقوں سے بچا اس جماعت میں تو ہم صرف اڑھائی مؤمن رہ گئے ہیں۔ایک دفعہ وہ پشاور جارہے تھے ساتھ اور بھی احمدی تھے کسی نے رستہ میں کوئی بات جو کہی تو انہوں نے کہا کہ یہ بات یوں ہے۔وہ کہنے لگا اس بات کا ثبوت کیا ہے کہ یہ بات یوں ہے حافظ محمد صاحب کہنے لگے اس کا ثبوت یہ ہے کہ میں کہتا ہوں اور میں مؤمن ہوں۔وہ کہنے لگا یہ آپ نے بڑا بھاری دعوای کر دیا آپ کے اندر تکبر معلوم ہوتا ہے تو بہ کیجئے۔وہ پوچھنے لگے کہ کیا آپ مؤمن نہیں ؟ وہ کہنے لگا میں بھلا مؤمن کہاں ہوں میں تو گناہگار بندہ ہوں۔یہ کہنے لگے اچھا اگر آپ مؤمن نہیں بلکہ گنہ گار ہیں تو میں آپ کے پیچھے آئندہ نماز نہیں پڑھوں گا۔ایک اور مولوی صاحب بھی ان میں موجود تھے ان سے پوچھا گیا تو وہ کہنے لگے میں بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے ڈرتا ہوں۔یہ کہنے لگے اچھا جناب۔اب آپ کے پیچھے بھی آئندہ سے نماز بند۔کچھ عرصہ کے بعد جب دوبارہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے شکایت کی کہ حافظ صاحب الگ نماز پڑھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے جب پوچھا کہ کیا تم مؤمن ہو تو ہم نے کہا کہ ہم تو گنہ گار بندے ہیں اس پر حافظ صاحب نے ہمارے پیچھے نماز پڑھنی چھوڑ دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ واقعہ سن کر فرمایا حافظ صاحب سچ کہتے ہیں جب کوئی اقراری مجرم ہو جائے تو اُس کے پیچھے نماز کس طرح جائز ہوسکتی ہے۔اس کے بعد آپ نے فرمایا جسے خدا تعالیٰ ایک مامور کی شناخت کی توفیق دیتا ہے اور وہ پھر بھی کہتا ہے کہ میں مؤمن نہیں تو وہ آپ مجرم بنتا ہے اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی عدالت میں جا کر کہہ دے کہ میں چور ہوں یا ڈا کو ہوں پس جو شخص اپنے آپ کو چور اور ڈاکو کہتا ہے جس طرح وہ مُجرم ہے اسی طرح چونکہ مؤمن اور متقی ہونا ایک ہی چیز ہے اس لئے جو شخص کہتا ہے کہ میں متقی نہیں اس کے پیچھے نماز کیوں پڑھی جائے۔پس درحقیقت اللہ تعالیٰ کی جو جماعتیں ہوں ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ مؤمن ہوں۔جس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ملک ہوں ، ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ قدوس ہوں ، ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ عزیز ہوں اور ان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ حکیم ہوں پس اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی جماعت