خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 142

خطبات محمود ۱۴۲ سال ۱۹۳۵ء اگر کسی کو احمدیت میں داخل ہوئے تمہیں سال ہوئے ہیں تو وہ تمیں سال سے قربانیاں کر رہا ہے اور اگر کسی کو احمدیت میں داخل ہوئے ہیں سال ہوئے ہیں تو وہ بیس سال سے قربانیاں کر رہا ہے پھر اگر باپ نے سلسلہ کے لئے قربانی کی تھی تو اس کے بعد بیٹے نے قربانی شروع کر دی اور بیٹے کے بعد اس کے پوتے نے قربانی شروع کر دی۔غرض عزیزیت کے نمونے بھی ہماری جماعت میں ملتے ہیں اور جو ابھی تک اس قسم کا نمونہ نہیں بنے انہیں چاہئے کہ نمونہ بننے کی کوشش کریں۔جو ملک نہیں وہ ملک بننے کی کوشش کریں جو قد وس نہیں وہ قدوس بننے کی کوشش کریں۔جو عزیز ہیں وہ عزیز بننے کی کوشش کریں۔اور جو حکیم نہیں وہ حکیم بننے کی کوشش کریں۔حکیم ہمیشہ حکمت کے ماتحت کام کیا کرتا ہے اور میں سمجھتا ہوں جتنا ہماری جماعت حکمت کے ماتحت ہر کام کرنے کی عادی ہے خود یورپ بھی اتنا حکمت کے ماتحت کام کرنے کا عادی نہیں حالانکہ وہ تعلیم میں بہت آگے ہے۔مثلاً جتنا ہمیں اشتعال دلا یا جا تا اور مخالفوں کی طرف سے گالیاں دی جاتی ہیں کیا دنیا کی کوئی اور قوم ہے جو اس قسم کی اشتعال انگیزی کو برداشت کر سکے۔صرف ہماری جماعت دنیا میں ایسی ہے جو صبر کا بہترین نمونہ پیش کر رہی ہے اور یہ اسی لئے کہ ہماری جماعت حکمت کو بجھتی ہے۔وہ جانتی ہے کہ اگر گالیوں کے مقابلہ پر میں نے بھی گالیاں دے لیں تو ان سے اتنا فائدہ نہیں ہو گا جتنا چُپ رہنے سے اور مارکھا کر خاموش رہنے سے ہو گا۔اسی طرح ہماری جماعت اپنے اصل مقصود کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کے قلوب میں جو تبدیلی پیدا کرنا چاہتی ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے کرتی چلی جاتی ہے تو الملک الْقُدُّوسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ یہ چاروں صفات مؤمن کے اندر پائی جانی چاہیں۔جو شخص اپنے آپ کو مسلک نہیں بناتا۔جو شخص اپنے آپ کو قدو س نہیں بناتا۔جوشخص اپنے آپ کو عزیز نہیں بناتا۔اور جو شخص اپنے آپ کو حکیم خیال نہیں کرتا ، اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کے ایمان میں کمزوری ہے۔ایک حافظ محمد صاحب پشاوری ہماری جماعت میں ہوا کرتے تھے ، اب تو وہ فوت ہو چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سابقون میں سے تھے، کئی سال انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں قادیان رہنے کا موقع ملا، ان کی طبیعت میں بہت جوش تھا، اگر کسی کی ذراسی غلطی بھی دیکھ لیتے تو جھٹ کہہ دیتے وہ منافق ہے۔شیعوں کی طرح ان کا یہ خیال تھا کہ ہماری جماعت میں صرف اڑھائی مؤمن ہیں۔ایک وہ ایک حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول اور آدھے مولوی