خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 144

خطبات محمود ۱۴۴ سال ۱۹۳۵ء سے یہ چاہتا ہے کہ اس میں ملکیت پائی جائے ، اس کے اندر قدوسیت پائی جائے اس کے اندر عزیز بیت پائی جائے اور اس کے اندر حکیمیت پائی جائے پس اس آیت نے تمہیں یہ سبق دیا ہے کہ تم کبھی اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھو۔بے شک خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ ہم بے کس ہیں ہمارے اندر کوئی طاقت نہیں مگر دنیا کے مقابلہ میں ہم ملک ہوں گے۔بے شک خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ ہم گنہگار ہیں ہمارے اندر کئی قسم کی کمزوریاں پائی جاتی ہیں مگر دنیا کے مقابلہ میں ہم قدوس ہوں گے ، بے شک خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ ہمارے اندر استقلال کہاں مگر دنیا کے مقابلہ میں ہم عزیز ہوں گے۔اسی طرح بے شک خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہوئے ہم کہیں گے کہ ہم بیوقوف ہیں مگر دنیا کے مقابلہ میں ہم حکیم ہوں گے مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے سورج کے مقابل میں دیا کہے کہ میں تاریک ہوں لیکن کیا دیا اندھیرے میں بھی کہا کرتا ہے کہ میں روشن نہیں۔یوں تو روشن سے روشن لیمپ بھی اگر سورج کے سامنے رکھ دو تو اُس کی روشنی غائب ہو جائیگی لیکن اگر اندھیرے میں اسے لاؤ تب تمہیں معلوم ہو گا کہ اس کے اندر کتنی بڑی چمک پائی جاتی ہے اسی طرح اگر دین کے مخالفوں کے مقابلہ میں بھی جو روحانی لحاظ سے تاریک ہیں کو ئی شخص کہتا ہے کہ میں روشن نہیں تو وہ واقع میں روشن نہیں۔اور جو شخص غیر قوموں کے مقابلہ میں بھی اپنے اندر ملکیت نہیں پاتا ، جو شخص غیر قوموں کے مقابلہ میں اپنے اندر قدوسیت نہیں پاتا، جو شخص غیر قوموں کے مقابلہ میں بھی اپنے اندر عزیزیت نہیں پاتا اور جو شخص غیر قوموں کے مقابلہ میں بھی اپنے اندر حکیمیت نہیں پاتا وہ ایک بجھا ہو اد یا اور گل کی ہوئی لالٹین ہے۔تاریکی کے مقابلہ میں تو جگنو بھی چمکتا ہے کجا یہ کہ ایک لاٹین ہو اور وہ روشن نہ ہو۔جگنو کیوں دن کو نظر نہیں آتے اور رات کو نظر آتے ہیں۔اسی لئے کہ دن کو سورج مقابل پر ہوتا ہے اور رات کو تاریکی مقابل پر ہوتی ہے۔بچپن میں ہم ایک کھیل کھیلا کرتے تھے مصری کی ڈلیاں لیتے اور رات کو لحاف اوڑھ کر انہیں توڑتے تو اس میں سے روشنی نظر آتی۔بعض بچے جو نا واقف ہوتے ڈر جاتے اور سمجھتے کہ جن آ گیا ہے مگر دن کو مصری تو ڑو تو اس میں سے کبھی روشنی نظر نہیں آسکتی۔پس بے شک ہم اپنے آپ کو ادنی سمجھتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں جو چمکتے ہوئے سورج کی سی حیثیت رکھتا ہے ، اس کی ملکیت کے مقابلہ میں ہم جب اپنی ملکیت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنی بے بسی نظر آتی ہے ،اس کی قدوسیت کے مقابلہ میں جب ہم اپنی قدوسیت کو دیکھتے ہیں تو کہہ اُٹھتے ہیں ہم اس کے فضل