خطبات محمود (جلد 16) — Page 132
خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء۔میں ہندوستانیوں کی حکومت ہوگئی اور اس کا نقشہ یوں کھنچتے ہیں کہ سٹیشن کا عملہ گاڑی کا وقت نہیں بتاتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ جب سواریاں پوری ہونگی ٹرین چلے گی اور ریل کے جانے کی چہت بھی متعین نہیں کرتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ جدھر کی سواریاں زیادہ ہونگی اُدھر ٹرین جائے گی۔اسی طرح جب گاڑی چلنے لگتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کوئلہ نہیں اور اس وقت کوئلہ منگوایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔غرض انہوں نے ایسا لطیف نقشہ کھینچا کہ ہندوستانی کریکٹر کو نگا کر کے رکھ دیا ہے یہ ہندوستانی کریکٹر عزیز یت کے خلاف ہے اور خدا کی جنت میں وہی داخل ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مشابہ ہو جائے۔عزیزیت کا یہ مفہوم ہے کہ سوچ سمجھ کر اقدام کریں اور پھر خواہ جان جائے ، آن جائے ، آبرو جائے ، مال جائے پیچھے نہ ہٹیں ، اگر ہمنا ہے تو پہلے ہی آگے کیوں بڑھا جائے۔بہت سے لوگ دنیا میں سود بیشی ریل والا نظارہ دکھاتے ہیں کہ جدھر کی سواریاں زیادہ ہوئیں اُدھر کا رخ کر لیا یعنی جدھر فائدہ نظر آیا اُدھر ہو گئے۔بعض کہتے ہیں کہ ہم احمدی ہو جاتے ہیں ہماری شادی ہو جائے ، ہمیں کا م مل جائے ، ہمارے گزارے کی کوئی صورت پیدا کر دی جائے حالانکہ احمدیت کسی دکان کا نام نہیں بلکہ یہ تو مذہب ہے۔مذہب کے من متعلق ایسی باتیں کرنا سود بیشی ریل والا نظارہ پیش کرنا ہے۔اس کے برعکس حقیقی ریل دیکھو جس نے دس بجے روانہ ہونا ہوتا ہے کوئی سواری آئے یا نہ آئے وہ وقتِ مقررہ پر چل دے گی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مؤمن کو عزیز بننا چاہئے۔اگر وہ کسی عقیدہ کو قبول کرتا ہے تو اپنے آپ کو اُس کے لئے وقف کر دے۔دھوکا بازی نہ کرے جس نے راستہ میں رہ جانا ہو وہ پہلے ہی ساتھ کیوں چلے۔پھر فرمایا خدا تعالیٰ حکمت والا ہے بعض لوگ ہوتے ہیں کہ انہیں جب کسی کام پر لگایا جائے وہ عقل سے کام نہیں لینا چاہتے اور یہ نہیں دیکھتے کہ خدا کا ایک نبی اُٹھتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ فلاں شخص یا قوم تباہ ہو جائے گی لیکن مقررہ وقت آجاتا ہے اور ان پر کوئی تباہی نہیں آتی اور پھر وہ اعلان کر دیتا ہے کہ ان لوگوں نے تو بہ کر لی تھی اس لئے بچ گئے جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ بھی حکمت کے ما تحت رستہ بدلتا ہے لیکن اس کی مثال ایسی ہوتی ہے جیسے ایک انجینئر دیکھتا ہے کہ رستہ میں ایک بلند پہاڑی ہے جس کے اوپر سے سڑک یا پٹڑی گزارنے پر بہت خرچ آئے گا تو وہ اس کے اندر سُرنگ لگا کر رستہ بنادیتا ہے وہ اپنے مقصد کو نہیں چھوڑتا، ہاں رستہ بدل دیتا ہے اس لئے مؤمن کو بھی حکمت سے کام کرنا چاہئے۔استقلال کا یہ تقاضا نہیں ہونا چاہئے کہ جس بات پر آج عمل ہے حالات بدلنے کے