خطبات محمود (جلد 16) — Page 133
خطبات محمود ۱۳۳ سال ۱۹۳۵ء بعد بھی اسے نہ چھوڑا جائے۔ایک شخص آج ہمارا دشمن ہے اور کل وہ صلح کیلئے آتا ہے تو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم مستقل مزاج ہیں ہم اس سے صلح کیونکر کر سکتے ہیں۔ایک شخص کی شادی ہو جاتی ہے شادی سے پہلے وہ دونوں ایک دوسرے سے پردہ کرتے تھے لیکن اگر اب بھی وہ کہیں کہ ہم مستقل مزاج ہیں ، پردہ کیوں ترک کریں تو یہ حماقت ہو گی۔یا طلاق کے بعد بھی کہا جائے کہ ہم اکٹھے رہیں گے کیونکہ ہم مستقل مزاج ہیں تو یہ بیہودگی ہو گی۔حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک مولوی کی بیوی بہت تیز طبع تھی اس نے اُسے طلاق دے دی اور کہا گھر سے نکلو مگر عورت نے کہا میں تو تمہاری بیوی ہوں نکلوں کس طرح۔اُس نے ہزار کوشش کی مگر وہ نہ نکلی آخر مولوی اسباب اُٹھا کر دوسرے مکان میں چلا گیا لیکن وہ بھی وہیں پہنچ گئی۔آخر اس نے شہر چھوڑ دیا اور لاہور یا کسی اور جگہ پہنچ کر مدرسہ جاری کر لیا۔کئی سال وہ وہاں کام کرتا رہا لیکن ایک صبح لوگوں نے دیکھا وہ اسباب وغیرہ باندھ کر چلنے کی تیاری کر رہا ہے۔لوگوں نے وجہ دریافت کی تو اُس نے کہا کہ رات کیا دیکھتا ہوں کہ میری سابقہ بیوی دیوار پھاند کر گھر میں داخل ہو رہی ہے رات تو جوں توں کر کے گزاری اب اس شہر کو بھی چھوڑنے کا ارادہ ہے کہ اس سے نجات پاؤں۔پس اس قسم کی ضد حماقت کی علامت ہے یہ استقلال نہیں ، استقلال اصول کی پابندی کا نام ہے اور ضد بے اصولے پین کی پابندی کا نام ہے۔استقلال کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مقصود اور عقیدے کو نہ چھوڑے یہ نہیں کہ دوست دشمن ہو جائے تو پھر بھی اس سے دوست والا ہی سلوک روا ر کھے اور دشمن دوست بن جائے تو پھر بھی اسے دشمن ہی سمجھے۔استقلال سے کام کرتے ہوئے جو تغیرات ہوں ان کے ماتحت حکمت سے کام لینا بھی ضروری ہے جس طرح سواریوں کی زیادتی پر شاہجہان پور کی گاڑی کو دہلی لے جانا بے اصولا پن ہے اسی طرح پٹڑی ٹوٹی ہوئی دیکھ کر ٹرین کو لئے جانا بھی وقت کی پابندی نہیں بلکہ حماقت کا کام کہلائے گا۔دیکھو قرآن کریم میں لکھا ہے یہ کا فر کبھی ایمان نہیں لائیں گے لیکن کچھ عرصہ بعد خالد مسلمان ہو جاتے ہیں اور تھوڑے دنوں بعد رسول کریم ﷺ انہیں سیف مِنْ سُيُوفِ الله کا خطاب دے دیتے ہیں۔ابوسفیان منافقوں اور کافروں کا سردار تھا مگر کلمہ پڑھ لیتا ہے تو اس کی عزت کی جاتی ہے پس مؤمن کو حکمت سے کام لینا چاہئے۔سؤر کی طرح بغیر سوچے سمجھے سیدھے ہی نہیں چلے جانا چاہئے اگر حکمت کے ماتحت رستہ بدلنا پڑے تو کوئی حرج کی بات نہیں ہاں مقصود کو ہمیشہ سامنے رکھو جو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تسبیح اور پاکیزگی