خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 131

خطبات محمود ۱۳۱ سال ۱۹۳۵ء دے سو اس کی یہ خاصیتیں برابر جاری ہیں ، آگ ہمیشہ جلا رہی ہے تو عزیزیت استقلال اور دوام پر دلالت کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم بھی اپنے کاموں میں مستقل رہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کبھی نہیں ہوا کہ آج ایک شخص سنکھیا کھائے اور مر جائے لیکن کل ایک دوسرا شخص اسی طریق اور اسی مقدار میں کھائے تو اسکی صحت اچھی ہو جائے۔لوہے کی جو خاصیت آج ہے وہی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی یہ نہیں کہ آج لوہے کا جو چاقو بنایا جائے وہ چیر نے پھاڑ نے کا کام دے لیکن دوسرے دن جو چاقو بنایا جائے اس میں کاٹنے کی صفت نہ پائی جائے پس اللہ تعالیٰ کی عزیزیت کو دیکھو وہ ایک منصفانہ قانون بناتا ہے اور پھر اسے جاری رکھتا ہے اور اس سے بندے کو یہ سکھاتا ہے کہ تم بھی سوچ سمجھ کر ایک بات اختیار کرو اور پھر اس پر قائم رہو۔یہ کیا کہ آج ایک شخص کہتا ہے میری جان و مال حاضر ہے لیکن کل کہہ دیتا ہے کہ میرے رستہ میں فلاں فلاں روکاوٹیں ہیں۔اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں بھی مستثنیات ہیں لیکن وہ خود ایک دوسرے قانون کے ماتحت ظاہر ہوتے ہیں اور ان سے دنیا میں عظیم الشان تغیر اور انقلاب پیدا ہوتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ منصفانہ قانون بناتا ہے اور پھر اسے قائم رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ بندے بھی جو بات کہیں سوچ سمجھ کر کہیں اور پھر اس پر قائم رہیں۔اگر تم سمجھتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بچے ہیں اور تم نے ان کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا رستہ پالیا ہے تو حکومتیں بدل جائیں ، زمین آسمان ہل جائیں مگر تمہارے ایمان میں بال بھر بھی لغزش نہ آئے مشی کہ موت آجائے تو یہ عزیزیت ہے اور جو شخص اپنے اندر یہ بات پیدا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کی عزیزیت کا مظہر نہیں ہوسکتا۔دیکھوا چھا شوفر (CHAUFEUR) وہی سمجھا جاتا ہے جو موٹر کو رستہ سے ادھر اُدھر نہیں ہونے دیتا، سوار وہی اچھا ہوتا ہے جو گھوڑے کو سیدھا چلاتا ہے وہ ڈرائیور جس کی گاڑی کبھی ادھر ہو جائے کبھی اُدھر، نالائق سمجھا جاتا ہے حقیقی سائیکلسٹ ، حقیقی سوار، حقیقی ڈرائیور اور حقیقی شوفر وہی ہے جو جس طرف کا عزم کر لیتا ہے اس طرف اپنی سواری کو سیدھالے جا تا ہے۔شوکت تھانوی صاحب نے سودیشی ریل پر ایک مزاحیہ مضمون لکھا تھا ہمارے ملک کے مزاحیہ نویسوں میں ایک نقص ہے کہ وہ عام طور پر پھکڑ ہوتے ہیں مگر شوکت صاحب کے مضامین عام طور پر اس نقص سے پاک ہوتے ہیں۔میں نے ان کے ایک مضمون میں صرف یہ رنگ پایا ہے اگر کسی اور میں ہو تو میرے علم میں نہیں بہر حال انہوں نے سودیشی ریل کا نقشہ کھینچا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ گو یا عالم خیال