خطبات محمود (جلد 16) — Page 130
خطبات محمود ۱۳۰ سال ۱۹۳۵ء پھر رہ جاتا ہے۔ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک لکھنو کے سید صاحب اور دلی کے مرزا صاحب سٹیشن پر اکٹھے گاڑی میں سوار ہونے کیلئے کھڑے تھے اور دونوں کا خیال تھا کہ اپنے آپ کو دوسرے سے زیادہ مہذب ظاہر کرے۔جب گاڑی آئی تو سید صاحب کہنے لگے مرزا صاحب تشریف رکھئے۔اور مرزا صاحب کہہ رہے تھے سید صاحب آپ پہلے سوار ہو جئے۔لوگ تماشا دیکھ رہے تھے۔اتنے میں گاڑی نے وسل کیا تو دونوں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے اور سوار ہونے کے لئے ایک دوسرے کو گہنیاں مارنے لگے۔تو جب موقع آئے تصنع اور بناوٹ کے اخلاق بھول جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو غضب دلانے والا موقع اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ اُس کے ایک نبی کولوگوں نے سُولی پر لٹکا دیا۔ہم مسیحیوں کے اس مشرکانہ عقیدہ کے تو دشمن ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے مگر ہم انہیں عظیم الشان نبی سمجھتے ہیں اور یہود نے اس عظیم الشان نبی کو سولی پر لٹکا دیا مگر کیا ہوا کیا خدا نے سولی پر لٹکانے والی حکومت کو تباہ کر دیا یا سولی پر لٹکوانے کی موجب یہودی قوم کو ہلاک کر دیا ؟ نہیں۔بلکہ خدا تعالیٰ نے کہا تم نے یہ بہت گندی حرکت کی ہے مگر ہم اب بھی تمہیں مہلت دیتے ہیں کہ تو بہ کر لوممکن ہے ان میں سے بعض کو انفرادی طور پر سزا بھی دے دی ہو۔کسی کو کیا معلوم ہے کہ وہ یہودی مولوی جس نے یہ فتویٰ دیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب دیا جائے کس طرح ہلاک ہو ا ہو گا یا وہ سرکاری حکام جن کا اس میں دخل تھا کس طرح تباہ ہوئے؟ یہ اتنی غیر معروف ہستیاں ہیں کہ تاریخ میں ان کے حالات محفوظ نہیں مگر اس قدر عظیم الشان واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے رومیوں اور یہود کے ساتھ بہ حیثیت قوم جس رحم اور عفو کا معاملہ کیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کا رحم تسبیح کے لائق ہے۔غرض رحم خدا تعالیٰ کی ذاتی صفت ہے نہ کہ تکلف سے ظاہر ہونے والی خوبی۔پھر فرمایا الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ وہ غالب ہے۔عزیزیت نیچر پر تصرف کو ظاہر کرتی ہے۔عزیزیت وہ تصرف ہے جو جانوروں ، دریاؤں، پہاڑوں اور دیگر اشیاء پر ہے۔اس کی عزیزیت کے متعلق بھی دیکھو دنیا میں کتنی تسبیح ہو رہی ہے جس طرح قدوسیت میں بتایا ہے کہ تم اپنے اندر ذاتی رافت اور ہمدردی پیدا کر و عزیزیت میں یہ بتایا ہے کہ تمہارا غلبہ بھی ایسا ہو جیسا خدا کا ہے۔اللہ تعالیٰ کا غلبہ جاری ہے مگر اس میں رافت اور شفقت ہے کوئی چیز تم نہیں دیکھو گے جس میں کسی قسم کی نافرمانی یا بغاوت یا عہد شکنی نظر آتی ہو۔سورج چاند رات دن اپنے کام پر لگے ہوئے ہیں سنکھیا کو جو حکم دیا گیا ہے وہ اس کا ہمیشہ کیلئے تابع ہے ، افیون کو حکم ہے کہ قبض کرے اور بے ہوش کر