خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 127

خطبات محمود ۱۲۷ سال ۱۹۳۵ء چندے زیادہ دینے پڑتے ہیں۔دراصل مال کوئی چیز نہیں اصل چیز قربانی ہے۔وہی مال کام آتا ہے جو خدا کی راہ میں خرچ ہو باقی جو ہو وہ ضائع جاتا ہے ) پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہم اپنے ماتحتوں سے کیا سلوک کرتے ہیں۔کیا ہم اپنے ملازموں سے وہی سلوک کرتے ہیں جو خدا اپنے بندوں سے کرتا ہے؟ پچھلے سے پچھلے سال ایک افسر کے متعلق میرے پاس شکایت کی گئی تھی کہ وہ ماتحتوں کو تو کہہ کر مخاطب کرتا ہے حالانکہ وہ سلسلہ کا افسر تھا اور میں نے متواتر بتایا ہے کہ ہمارا معیار فضیلت اخلاق ہے۔یہ افسری ماتحتی تو صرف نظام کے لئے ہے تمدنی طور پر اس کا کوئی اثر نہیں۔ممکن ہے افسر اخلاق کے لحاظ سے ادنی اور ماتحت اعلے ہو۔اسی طرح ممکن ہے بادشاہ اس لحاظ سے رعایا کے بعض افراد سے ادنی ہو انسانیت کے لحاظ سے چھوٹا بڑا کوئی نہیں۔نیرو سے بھی تو ایک بادشاہ تھا جس کے متعلق لکھا ہے کہ اس نے روم کو بالکل جلا کر راکھ کر دیا تھا اور جب شہر جل رہا تھا تو وہ کھڑا بانسری سن رہا تھا اور اس پر خوشی کا اظہار کر رہا تھا۔اگر چہ آجکل اس واقعہ کو صحیح نہیں سمجھا جاتا لیکن سات آٹھ صدیوں تک یہ بالکل درست سمجھا جاتا رہا ہے تو ایک طرف ایسے بادشاہ بھی ہوئے ہیں اور دوسری طرف ایسے غریب بھی جو اپنا سب کچھ قربان کر کے بھی دوسروں کو بچالیں گے اور ایک قربانی کرنے والا غریب یقیناً ظالم بادشاہ سے ہزار گنا اعلیٰ ہے۔میں حیران ہوں کہ اس افسر نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ ماتحت پر اُسے تمدنی طور پر بڑائی جتانے کا بھی حق حاصل ہے مجھے اس سے بہت افسوس ہوا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے ملک میں چونکہ بہت جہالت ہے اس لئے بعض بچے اپنے والد کو بھی اوئے باپو! کہہ کر مخاطب کرتے ہیں لیکن ہمیں اسلام کے اخلاق دکھانے چاہئیں کیونکہ ہم نے تمدنی طور پر دنیا میں مساوات قائم کرنی ہے۔اگر ناظر کے لئے یہ جائز ہے کہ کلرک کو تو کہے تو خلیفہ کے لئے ناظر کو ایسا کہنا درست ہو گا مگر کیا اسے پسند کیا جائے گا ؟ پس افسروں کو ماتحتوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرنا چاہئے کہ جس سے ظاہر ہو کہ وہ انہیں ادنی انہیں سمجھتے بلکہ برابر کا ہی سمجھتے ہیں۔ہاں انتظام کے بارے میں ماتحت کا فرض ہے کہ افسر کی فرمانبرداری کرے، اس کے احکام پر نکتہ چینی نہ کرے اور حجت نہ کرے کیونکہ یہ بھی بڑا نقص ہے اور مساوات کے اصول کے خلاف ہے ماتحت کا فرض ہے کہ اسے جو حکم دیا جائے اگر ضرورت ہو تو مؤدب طور پر اس کے متعلق اپنی رائے پیش کر دے اور پھر اطاعت کرے۔ماتحتوں کیلئے ملکیت کے اعتراف کا طریق