خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 126

خطبات محمود ۱۲۶ سال ۱۹۳۵ء اعتراف ہے غرضیکہ اسلام کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جس کی متمدن دنیا نے مخالفت نہ کی ہو اور پھر دھکے کھا کر اسی کی طرف نہ آئی ہو۔یہی مطلب ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ كا ، خدا کی بادشاہت کی زمین و آسمان میں تعریف ہو رہی ہے۔جس طرح خدا کی بادشاہت بغیر عیب کے ہے اور کوئی نہیں لیکن اس بے عیب بادشاہت کے باوجود اُس نے یہ نہیں کہا کہ تم اپنے میں سے اور بادشاہ نہ بناؤ بلکہ یہ حکم دیا ہے کہ اُولی الامر کی اطاعت کرو جس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ جس طرح کا میں ملک ہوں ویسے ہی دوسرے بننے کی کوشش کریں۔ہماری جماعت میں ملکیت نہیں کہ اسکی مثال پیش کی جا سکے ابھی ہم ہر ملک میں رعایا ہی ہیں کسی جگہ ہماری کوئی ریاست بھی نہیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ ا یعنی تم میں سے ہر شخص بادشاہ ہے اور اسکی رعیت کے متعلق اس سے سوال کیا جائے گا اور جب آپ نے فرمایا ہے کہ ہر شخص بادشاہ ہے تو معلوم ہوا کہ رعایا ہوتے ہوئے بھی انسان ایک رنگ میں بادشاہ ہوسکتا ہے گھروں میں خاوند یا باپ کو جو حکومت حاصل ہے اسے ناجائز نہ محسوس ہونے دے۔باپ حکومت کرتا ہے مگر بچوں کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم پر حکومت کی جارہی ہے تم لاکھوں دیہات میں پھر جاؤ اور بچوں سے دریافت کرو تمہارا باپ کیسا ہے ؟ سب کہیں گے بڑا اچھا۔ان سے پوچھو کیا وہ تم پر حکومت کرتا ہے ؟ تو وہ شاید اس سوال پر حیران ہو کر تمہارا منہ دیکھیں گے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی حکومت بھی نظر نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہی بات ہر شخص میں پیدا ہو۔ہر شخص بادشاہ ہے جو اپنی رعیت کے متعلق جواب دہ ہو گا اس سے پوچھا جائیگا کہ اس نے اپنی بیوی ، بچوں ، مزدوروں، کلرکوں اور ماتحتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ دیکھیں وہ اپنے دائرہ حکومت میں ایسے کام کر رہے ہیں یا نہیں جن سے ان کی تسبیح ہوا گر وہ ایسا ہے تو وہ اس آیت کے مصداق ہو جاتے ہیں۔(اس موقع پر بارش شروع ہوگئی اور لوگوں میں حرکت ہونے لگی اس پر حضور نے فرمایا۔جب بھی بارش ہوتی ہے تو میں توجہ دلاتا ہوں کہ افسر مسجد کے برآمدہ کو وسیع کرنیکی کوشش کریں مگر وہ بُھول جاتے ہیں۔خیر ان کے متعلق تو کئی شکوے میرے دل میں بھرے ہوئے ہیں اور میں کسی دن ان کا اظہار کروں گا اس وقت میں قادیان کے محلوں والوں سے کہتا ہوں کہ وہی اپنے اپنے ہاں چندہ جمع کر کے یہ کام کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔یہ مت خیال کرو کہ ہم کو