خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 128

خطبات محمود ۱۲۸ سال ۱۹۳۵ء یہی ہے کہ افسروں کی اطاعت کریں ہاں جو بات سچ ہو وہ کہہ دیں۔جو کچی بات کو چھپائے رکھتا ہے وہ نالائق ہوتا ہے۔اسی طرح افسر سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے اگر ان کو حکومت دی ہے تو انہیں اللہ تعالیٰ کی ملکیت کا نمونہ دکھانا چاہئے۔مزدور کو مزدوری وقت پر دینا بھی ضروری ہے یہ نہیں کہ بیچارے نے پیسے مانگے تو گالیاں دینے لگ گئے اور ٹھڈے مار کر نکال دیا۔جو شخص ایسا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی نقل نہیں کرتا اور انعامات کے مستحق وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اس کی ملکیت کی نقل کرتے ہیں پس اگر کوئی رعایا میں سے ہے تو اسے چاہئے اپنے حاکموں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جو خدا چاہتا ہے اور اگر قوت حاصل ہے، افسر ہے ، ہیڈ ماسٹر ہے ، سپر نٹنڈنٹ ہے اور اس طرح بعض دوسرے لوگ ہیں جن کو اوروں پر تصرف حاصل ہے تو اس تصرف کو اتنا پیارا اور میٹھا بنا دیں کہ دوسروں کو ذرا بھی گیراں نہ گزرے۔پھر یہ بھی نہیں چاہئے کہ آج ایک سے لڑائی ہوئی تو دوسرے دن اُس کے خلاف محض جھوٹی سازش شروع کر دی۔اگر کسی سے لڑائی ہوئی ہے اور اسے معاف نہیں کر سکتے تو اختلاف کو اُس کی حد کے اندر رکھو۔یہی بات خدا کی بادشاہت میں ہمیں دکھائی دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز اُس کی تسبیح کر رہی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ تم میں سے جس کو جتنی بادشاہت دے اسے چاہئے کہ اس میں اس کی نقل کرے اگر ہندوستان کا بادشاہ بنا دیا جائے تو ہندو سکھ اور مسلمان میں کوئی تمیز نہ کرو، غریب و امیر کا خیال نہ کرو، ہندی کو اڑا کر اردوز بر دستی جاری کرنے کے منصوبے نہ کرو، یا ایک تمدن کی جگہ دوسرا تمدن ، ایک مذہب کی جگہ دوسرا مذ ہب جبراً قائم کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لاؤ بلکہ جس طرح خدا تعالیٰ کر رہا ہے تم بھی اسی طرح کرو۔پھر جو وزارت پر ہوا سے چاہئے کہ اپنے دائرہ حکومت میں اللہ تعالیٰ کی جتنی نقل کر سکتا ہے کرے۔اس سے نیچے اتر کر سیکرٹری اور ڈائریکٹر اور دوسرے افسر سب جس قدر ممکن ہو اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی نقل کریں۔دوسری صفت یہاں یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قدوس ہے۔دنیا اسے پاک قرار دیتی ہے۔ملکیت کی تشبیح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ظاہر معاملہ صحیح ہو لیکن قدوسیت کا یہ مطلب ہے کہ دل میں بھی معاملہ صحیح ہو یعنی منافقت سے نہ ہو۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے کے پاس جاتا ہے اور وہ کہتا ہے آئے تشریف رکھئے آپ کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی لیکن دل میں اس کے متعلق یہ ارادہ رکھتا ہے کہ موقع ملے تو اُسے تباہ کر دوں یہ بات قدوسیت کے خلاف ہے۔قدوسیت یہ ہے کہ ظاہر و باطن