خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 125

خطبات محمود ۱۲۵ سال ۱۹۳۵ء اسی بات کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ - خدا کی بادشاہت کا مظہر قرآن کریم ہے اور دیکھو کونسی قوم ہے جس کے حق قرآن کریم میں مارے گئے ہیں۔ہر ملک، ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کے حقوق کا اس میں لحاظ رکھا گیا ہے۔وہ خود بادشاہ ہے مگر کہتا ہے کہ اپنے بادشاہوں کی اطاعت کرو، خود بادشاہ ہے مگر کہتا ہے کہ رعایا کو دکھ اور تکلیف مت دو، وہ سب دولتوں کا مالک ہے مگر حکم دیتا ہے کہ امراء غریبوں پر ظلم نہ کریں اور غریبوں کو ہدایت کرتا ہے کہ امیروں سے معاملات درست رکھو۔غرض بادشاہ ہو یا رعایا، بڑا ہو یا چھوٹا ، عورت ہو یا مرد، سب کے حقوق کی حفاظت قرآن کریم نے کی ہے اور دیکھ لوسب قو میں ہر طرف سے دھکے کھا کھا کر آخر اسلام کے آستانہ پر آرہی ہیں۔اسلام میں طلاق کی اجازت ہے پہلے اس پر بہت اعتراض کئے جاتے تھے اور اسے ظلم قرار دیا جاتا تھا مگر اب یہ حال ہے کہ امریکہ کی ایک عورت فوت ہوئی تو ٹائمز نے لکھا کہ اس کے ۷ا شوہر تھے جن میں سے گیارہ اس کے جنازے میں شریک تھے۔ایک سے اُس نے اِس وجہ سے طلاق حاصل کی کہ اُس نے ایک ناول لکھا ہے جسے خاوند چھاپنے کی اجازت نہیں دیتا۔ایک سے اس بناء پر کہ میں سات بجے سے اس کا انتظار شروع کرتی ہوں لیکن یہ آٹھ بجے آتا ہے۔یا تو وہ حالت تھی کہ مرد عورت کی علیحدگی کسی صورت میں جائز نہ سمجھی جاتی تھی اور اسے ایک بہت بڑا ظلم کہا جاتا تھا یا آج یہ حالت ہے۔اگر چہ اسلام میں طلاق جائز ہے لیکن میں نے اس زمانہ میں کبھی نہیں سنا کہ کسی مسلمان عورت کے چار سے زائد خاوند ہوئے ہوں۔جنگی زمانوں میں جب لوگ جان ہتھیلی پر لئے پھرتے تھے بے شک ایسا ہو نا ممکن ہو گا۔پھر ٹائمنر نے جو خبر شائع کی ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہی ریکارڈ ہے ممکن ہے کہ کوئی ۲۷ یا ۷ ۳ خاوند والی عورت بھی ہو جس کا اُسے علم نہ ہو سکا ہو اسی طرح اور بہت سی تمدنی چیزیں ہیں جن میں دنیا مجبور ہو کر اسلام کی طرف آ رہی ہے۔اسلام نے جوئے سے منع کیا ہے کہا جاتا تھا کہ اس کے بغیر زندگی نہیں مگر اب یہ سوال پیدا ہور ہے ہیں کہ فلاں قسم کا جو ا جائز ہے یا کہ نہیں؟ ایک سے زیادہ بیویوں کا سوال تھا مگر اب یورپ کے تمام بڑے بڑے مصنفین دھڑلے سے لکھ رہے ہیں کہ ایک سے زیادہ شادیاں نہ کرنا بیوقوفی ہے۔پھر سود کی اسلام نے ممانعت کی ہے اس کی بھی مخالفت کی جاتی تھی مگر آج سود کی تباہ کاریوں کا سب کو