خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 114

خطبات محمود ۱۱۴ سال ۱۹۳۵ء اور فتح کی خبر دیتے ہیں اور بعض الہام تو بہت ہی مبارک ہیں مگر میں انہیں بیان نہیں کرتا کیونکہ ان کے مخفی رکھنے میں بعض مصالح ہیں۔صرف ایک رؤیا بیان کر دیتا ہوں جو انہی دنوں میں نے دیکھا۔میں نے دیکھا کہ میں بھوپال میں ہوں اور وہاں ٹھہرنے کے لئے سرائے میں اترنے کا ارادہ ہے۔ایک سرائے وہاں ہے جو بہت اچھی اور عمدہ ہے مگر ایک اور سرائے جو بظاہر خراب اور خستہ ہے اور وہاں میرے ساتھی اسباب لے گئے ہیں۔ایک ہمارے ہم جماعت ہوا کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ مغفرت کرے، ان کا نام حافظ عبد الرحیم تھا میں نے دیکھا وہ اسی جگہ ہیں اور حکیم دین محمد صاحب کہ وہ بھی میرے ہم جماعت ہیں وہیں ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حافظ عبد الرحیم صاحب مرحوم اس بظاہر شکستہ سرائے میں ہمیں لے گئے ہیں۔میں اسے دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہاں ٹھہرنے میں تو خطرات ہوں گے ، سرائے بھی خراب سی ہے ، دوسری اچھی سرائے جو ہے وہاں کیوں نہیں ٹھہرے۔وہ کہنے لگے یہیں ٹھہرنا اچھا ہے ، پھر وہ میرے لئے بستر بچھاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بستر بھی نہایت گندہ اور میلا سا ہے۔میں اسے دیکھ کر کہتا ہوں اگر مجھے معلوم ہوتا کہ بستر ایسا گندہ ملے گا تو میں اپنا بستر لے آتا۔تکیہ کی جگہ بھی انہوں نے کوئی نہایت ہی ذلیل سی چیز رکھی ہے۔پھر جس طریق پر وہ بچھاتے ہیں اس سے بھی مجھے نفرت پیدا ہوتی ہے کیونکہ ٹیڑھا سا بستر انہوں نے بچھایا ہے مگر پھر میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ یہ بُری بات ہے میں کسی اور جگہ رہائش کا انتظام کروں جہاں باقی ساتھی ہیں وہیں مجھے بھی رہنا چاہئے۔اس کے بعد میں بستر پر لیٹ جاتا ہوں مگر لیٹتے ہی میں دیکھتا ہوں کہ بستر نہایت اعلیٰ درجہ کا ہو جاتا ہے اور جگہ بھی تبدیل ہو کر پہلے سے بہت خوشنما ہو جاتی ہے ، لحاف اور کمبل بھی جو بستر پر ہیں نہایت عمدہ قسم کے ہو جاتے ہیں اور تکیہ بھی میں دیکھتا ہوں کہ بہت اعلیٰ ہے اور باقی ساتھیوں کے بستر بھی صاف ستھرے ہو جاتے ہیں۔بستر پر لیٹتے وقت میرے دل میں خیال تھا کہ مجھے اپنے پاس کوئی ہتھیار رکھنا چاہئے کیونکہ خواب میں ہم باہر صحن میں ہیں اور گلابی جاڑے کا موسم ہے جب کہ لوگ باہر سوتے لیکن اوپر کچھ نہ کچھ اوڑھتے ہیں پس خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ کوئی چور چکار نہ آ جائے۔میں اسی سوچ میں ہوں کہ میں خیال کرتا ہوں میری جیب میں ایک پستول پڑا ہے اسے دیکھوں کہ وہ موجود ہے کہ نہیں۔چنانچہ کہنی کے بل میں اٹھتا ہوں اور جیب پر ہاتھ مار کر دیکھتا ہوں تو مجھے نہایت اچھی قسم کا عمدہ سا پستول نظر آ جاتا ہے۔اس پر دل میں اطمینان پیدا ہو جاتا ہے۔اس رؤیا کا اثر اتنا گہرا تھا کہ