خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 115

خطبات محمود ۱۱۵ سال ۱۹۳۵ء فوراً آنکھ کھل گئی اور میں نے دیکھا کہ میں واقع میں اپنے کرتہ پر صدری کی جیب کی جگہ پر ہاتھ مار رہا تھا جیسے کوئی کچھ تلاش کرتا ہے۔یہ رویا تو خیر تعبیر طلب ہے مگر اور بھی بہت سے واضح رؤیا ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ابتلاؤں میں ہمیں فتح دے گا اور یہ کہ اس کا نشان یہ ہے کہ وہ احمدیت کو ان ابتلاؤں کے ذریعہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دنیا کے تمام ممالک میں پھیلائے اور کوئی بڑی سے بڑی روک اس کی ترقی میں حائل نہیں ہو سکے گی۔خدا تعالیٰ کی ان متواتر خبروں کے بعد میں کسی کی یہ بات کس طرح قبول کر سکتا ہوں کہ ہماری جماعت پر یہ عذاب آ رہا ہے۔پنجابی میں ضرب المثل ہے کہ گھروں میں آیاں تے سنیے توں دیویں ، یعنی گھر سے تو میں آرہا ہوں اور گھر کے پیغام تم بتا رہے ہو۔اس طرح ہم خود خدا کے گھر سے آئے اور ہمیں اس نے بتایا ہے کہ ان فتنوں کا کیا انجام ہے پس ہم پر ان وہمی باتوں کا کیا اثر ہو سکتا ہے کہ یہ خدا کا عذاب ہے جو آ رہا ہے۔میرا یہ مطلب نہیں کہ میں جماعت کو اصلاح سے غافل کرنا چاہتا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ مجھ میں بھی عیب ہیں اور تم میں بھی پھر کسی میں دس عیب ہیں ،کسی میں ہیں کسی میں سو اور کسی میں ہزار ہم جتنی جلدی ان عیبوں کو دور کرو گے اتنی ہی جلدی تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہوگا بلکہ اگر تم میں آدھا عیب بھی باقی ہے اور تم اسے دور کرنے کی کوشش نہیں کرتے تو خدا سے دور رہتے ہوا اور آدھا عیب کا کیا مطلب ، عیب کا ہزارواں حصہ بھی اگر تمہارے اندر ہے تو تمہیں اس سے شدید نفرت کرنی چاہئے اور شدید کوشش اس بات کی کرنی چاہئے کہ تم اس قدر عیب سے بھی پاک ہو جاؤ مگر میں یہ کہ کر اپنی جماعت کو مایوس بھی نہیں کرنا چاہتا کہ گویا تمہیں سزامل رہی ہے۔بے شک خدا ہمیں اس وقت تکلیف میں ڈالے ہوئے ہے مگر اس لئے کہ تا ہمارے افکار کو وسیع کرے۔جب انسان پر مصائب و مشکلات آتی ہیں تو اس وقت ایسی ایسی تدبیریں اسے سوجھتی ہیں جو بہت جلد ترقی تک پہنچانے والی ہوتی ہیں۔فاقہ کے وقت بعض دفعہ غریبوں کو ایسے ایسے ڈھنگ روٹی کمانے کے سوجھتے ہیں کہ انسان خیال کرتا ہے اگر یہ دنیا کے بادشاہ ہو جائیں تو تمام عالم کو مسخر کر لیں اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمیں اس لئے مشکلات میں نہیں ڈالے ہوئے کہ وہ ہمیں دکھ دینا چاہتا ہے بلکہ اس لئے کہتا ہماری عقلیں تیز ہو جائیں اور ہماری تدبیروں کا دائرہ وسیع ہو اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جب ہم ان تدبیروں پر عمل کریں گے تو سحر ہو جائے گی اندھیرا جاتا رہے گا اور فتح اور کامیابی کا سورج