خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 113

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء سزا ہیں تو نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذلِكَ کہنا پڑے گا کہ خدا ظالم ہے اس نے ہمارے دلوں کو دیکھا مگر ہمارے ساتھ وہ سلوک نہ کیا جس کے ہم مستحق تھے۔باقی رہی کمزوروں کی اصلاح سو وہ ہمیشہ ہمارے مد نظر رہتی ہے۔اور کمزوریاں تو ہر انسان میں پائی جاتی ہیں اور ہر انسان اگر چاہے تو انہیں چھوڑ کر زیادہ بلند مقام حاصل کر سکتا ہے۔عمر ابو بکر بن سکتا ہے اور ابو بکر اور زیادہ ترقی کر کے خدا تعالیٰ کی محبت کے مزید مقامات حاصل کر سکتا ہے پس اس قسم کا خیال رکھنے والے لوگوں کو میں سمجھا تا ہوں کہ وہ غور کریں اور سوچیں۔میں زبر دستی ان سے اپنی بات نہیں منوانا چاہتا بلکہ انہیں کہتا ہوں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کریں۔اگر وہ تو جہ کریں گے تو انہیں معلوم ہو جائے گا کہ ان کا یہ خیال بالکل باطل ہے اور نہ صرف باطل بلکہ انہیں نیکی کے راستہ سے دور پھینکنے والا ہے۔بہت دفعہ شیطان نیکی کے راستہ سے دھوکا دے دیا کرتا ہے جیسے عبد الحکیم کی مثال میں نے ابھی بیان کی ہے۔اس نے اعتراض کرتے وقت یہی لکھا تھا کہ جماعت کی اصلاح میرے مد نظر ہے مگر دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیسا خطر ناک نکلا۔ملتی نظام خدا تعالیٰ کو بہت محبوب ہے اور جو شخص اس پر اعتراض کرتا ہے اس کے دل پر زنگ لگنا شروع ہو جاتا ہے۔ہاں اصلاح کے لئے جماعت کے عیوب بیان کرنا بالکل اور چیز ہے اور نیتوں کا فرق بات کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتا ہے۔بظاہر ایک ڈاکٹر بھی ہاتھ کا تا ہے اور ڈا کو بھی۔اسی طرح ڈا کو بھی لوگوں کو قتل کرتے ہیں اور گورنمنٹ بھی پھانسیاں دیتی ہے مگر ان دونوں میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔گورنمنٹ ہزاروں آدمیوں کی جانیں بچانے کے لئے مجرموں کو پھانسی دیتی ہے اور ڈا کو مال وغیرہ لوٹنے کے لئے دوسروں کو قتل کرتے ہیں پس کام تو ایک ہے مگر نیتوں میں فرق ہے۔اسی طرح جماعت کی اصلاح کے لئے نقص بیان کرنا اور بات ہے اور جماعت کے عیوب پر لذت محسوس کرنا اور کہنا کہ اب یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے سزا مل رہی ہے بالکل اور بات ہے اور دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔جس طرح ہر وہ قوم جس میں اصلاح کرنے والے نہ رہیں اور جس کے افراد ایک دوسرے کے عیوب نہ دیکھ سکیں تباہ ہو جاتی ہے اسی طرح وہ لوگ بھی ہلاک ہو جاتے ہیں جو عیب دیکھتے تو ہیں مگر ان کا اپنے دلوں میں ذخیرہ کرتے چلے جاتے ہیں اور بجائے اصلاح کے قوم کے متعلق بُری رائے قائم کر لیتے ہیں۔پس تقویٰ اختیار کرو اور اللہ تعالیٰ پر امید نہ چھوڑو اور یقیناً یاد رکھو کہ بے شک ہمارے سامنے مشکلات ہیں مگر ان کا انجام اچھا ہے۔مجھے خود بعض رؤیا اور الہام ایسے ہوئے ہیں جو کامیابی