خطبات محمود (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 6 of 869

خطبات محمود (جلد 16) — Page 6

خطبات محمود سال ۱۹۳۵ء گا۔ہرگز نہیں۔اس میں اتنی مقدار کا تو پتہ بھی نہیں لگ سکے گا۔پس جو چیز تحریک کا سواں حصہ ہے اس پر خواہ کس قدر جوش کے ساتھ عمل کیا جائے ، کامیابی نہیں ہو سکتی۔اصل کام وہ ہے جو جماعت کو خود کرنا ہے روپیہ تو ایسے حصوں کے لئے ہے جہاں پہنچ کر جماعت کام نہیں کر سکتی باقی اصل کام جماعت کو خود کرنا ہے۔قرآن اور حدیث سے کہیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کسی نبی نے مزدوروں کے ذریعہ فتح حاصل کی ہو۔کوئی نبی ایسا نہ تھا جس نے مبلغ اور مدرس نوکر رکھے ہوئے ہوں۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک بھی مبلغ نوکر نہ تھا اب تو جماعت کے پھیلنے کی وجہ سے سہارے کے لئے بعض مبلغ رکھ لئے گئے ہیں۔جیسے پہاڑوں پر لوگ عمارت بناتے ہیں تو اس میں سہارے کے لئے لکڑی دے دیتے ہیں تا لچک پیدا ہو جائے اور زلزلہ کے اثرات سے محفوظ رہے۔پس ہمارا مبلغین کو ملازم رکھنا بھی لچک پیدا کرنے کے لئے ہے وگر نہ جب تک افراد جماعت تبلیغ نہ کریں، جب تک وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کے اوقات دین کے لئے وقف ہیں ، جب تک جماعت کا ہر فرد سر کو ہتھیلی پر رکھ کر دین کے لئے میدان میں نہ آئے اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔حضرت اسماعیل علیہ السلام کو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے علیحدہ کیا ہے تو اس کے متعلق بائبل میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔اس کے بھائیوں کی تلوار اس کے خلاف اُٹھے گی اور اس کی تلوار ان کے خلاف۔جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نبی ہوگا کیونکہ نبی کے خلاف ہی ساری دنیا کی تلوار میں اٹھتی ہیں۔پس جب تک کوئی شخص ساری دنیا کی تلواروں کے سامنے اپنا سر نہیں رکھ دیتا اس وقت تک اس کا یہ خیال کرنا کہ وہ اس مأمور کی بیعت میں شامل ہے فریب اور دھوکا ہے جو وہ اپنی جان کو بھی اور دنیا کو بھی دے رہا ہے۔ہماری جماعت کے زمیندار اور ملازم اور تاجر یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے ہوئے اور چند مبلغ ملازم رکھ کر کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ خدا کی جماعت ہیں حالانکہ یہ حالت خدا کی جماعتوں والی نہیں اس صورت میں ہم زیادہ سے زیادہ ایک انجمن کہلا سکتے ہیں۔خدائی جماعت وہی ہے جس کا ہر فرد اپنے آپ کو قربانی کا بکرا بنا دے اور جس کا ہر ممبر موت قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہے۔یاد رکھو جو جماعت مرنے کے لئے تیار ہو جائے اسے کوئی نہیں مارسکتا اور نہ اس کے مقابلہ پر کوئی ٹھہر سکتا ہے۔پنجاب گورنمنٹ کی مردم شماری کی رُو